اللہ اکبر
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
عقیدہ خدا کی تائید میں سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ وہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ وہ فطرت انسانی کی طلب کا حقیقی جواب ہے۔ ایورسٹ دنیا کی سب سے اونچی پہاڑی چوٹی ہے۔ اس کی بلندی سطح سمندر سے ۲۹۰۲۸ فٹ (۸۸۲۸ میٹر) ہے۔ ۳۰ سال کے اندر تقریبا دس ہمیں اس پر چڑھنے میں ناکام ہو چکی تھیں۔ آخر کار ۲۹ مئی ۱۹۵۳ء کو دو آدمی ہمالیہ کی اس چوٹی پر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ ان میں سے ایک سر ایڈمنڈ ہیلری تھے اور دوسرے تن زنگ نارگے ۔ تن زنگ نارگے (۱۹۱۴-۱۹۸۶) نیپال کے ایک پہاڑی قلی تھے۔ اس واقعہ کے بعد اچانک ان کو غیر معمولی شہرت حاصل ہو گئی ۔ دنیا بھر سے ان کو دعوت نامے ملنے شروع ہو گئے۔ اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور دوسری عالمی شخصیتوں نے ان سے ملاقاتیں کیں ۔ وہ ہمالین ماونٹینرنگ انسٹی ٹیوٹ (دارجلنگ) کے ڈائرکٹر بنا دیئے گئے ۔ تن زنگ صرف برائے نام انگریزی جانتے تھے مگر ایک مغربی مصنف جیمز ریمزے اولمن (James Ramsey Ullman) نے انگریزی زبان میں ان کی سوانح عمری لکھی جو ایورسٹ کا آدمی (Man of Everest) کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ (انڈین ایکسپریس، نئی دہلی، ۱۰ مئی ۱۹۸۶) ۹ مئی ۱۹۸۶ء کو تن زنگ کا انتقال ہو گیا۔ ان کے انتقال کے بعد سر ایڈمنڈ ہیلری دندوستان میں نیوزی لینڈ کے ہائی کمشنر) نے ایک تعزیتی بیان دیا۔ اس بیان میں بتایا گیا تھا کہ تن زنگ جب ایورسٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ۔ تو اس وقت اپنی زندگی کے آخری نقطہ پر، وہ برف پر گھٹنوں کے بل جھک گئے ، انھوں نے برف میں چھوٹا سا سوراخ بنایا اور اس کے اندر کچھ شیرینی رکھی۔ یہ دیوتاؤں کے لیے ان کا اظہار عقیدت تھا : And then, at the high-point of his life, Tenzing knet in the snow, made a little hole and put sweets into it, his gesture to the gods. انسان عین اپنی فطرت کے زور پر چاہتا ہے کہ وہ اپنی کامیابیوں کو کسی برتر ہستی کے خانے میں ڈالے مگر خدائے واحد سے آگاہ نہ ہونے کی بنا پر وہ اس کو فرضی دیوتاؤں کے خانے میں ڈال دیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حق کی دعوت ایک ایسی چیز کی طرف دعوت ہے جس پر لبیک کہنے کی صلاحیت آدمی کے اندر پہلے سے موجود ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader