Urdu book · عظمتِ اسلام

نظریاتی برتری

Urdu book, p. 189

By Maulana Wahiduddin Khan

نظریاتی برتری اسلام دین رحمت ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن میں رحمتہ للعالمین (انبیاء ۱۰۷) کہا گیا ہے۔ یعنی سارے عالم کے لیے رحمت۔ اس کے باوجود آپ کی معاصر قوم سے آپ کی لڑائیاں پیش آئیں ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب آپ رحمت اور سلامتی تھے تو آپ نے دوسروں سے جنگ کیوں کی۔ کیوں نہ ایسا ہوا کہ آپ کا مشن رحمت اور امن سے شروع ہوتا اور رحمت اور امن ہی پر وہ تمام ہو جاتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کی لڑائیاں حقیقہ زمانہ کے خانہ میں جاتی ہیں نہ کہ خود آپ کے خانہ میں ۔ آپ جس زمانہ میں آئے اس وقت دنیا میں بادشاہت کا زمانہ تھا۔ اس وقت ڈیمو کریسی اور آزادی کا کوئی تصور نہ تھا۔ مطلق العنان بادشاہ یا سردار ہر جگہ راج کر رہے تھے۔ یہی زمانی حالت جنگ کا سبب بن گئی۔ اگر اس وقت آج کی طرح ڈیمو کریسی موجود ہوتی تو شاید سرے سے جنگ کی نوبت ہی نہ آتی۔ اس کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ مثال امریکہ کی تحریک آزادی اور انڈیا کی تحریک آزادی کے تقابل سے سامنے آتی ہے۔ امریکہ میں انیسویں صدی کے آغاز میں آزادی کی جنگ ہوئی ۔ امریکہ کے ساحلی مقامات پر انگریزوں کا قبضہ تھا۔ امریکی لوگ ان کو اپنے ملک سے نکال دینا چاہتے تھے ۔ اس کے نتیجہ میں دونوں فریقوں کے درمیان خونیں لڑائیاں ہوئیں۔ کثیر تعداد میں جانی نقصان کے بعد امریکہ کو انگریزوں سے آزادی نصیب ہوئی۔ انھیں انگریزوں کے خلاف انڈیا نے مہاتما گاندھی کی قیادت میں آزادی کی تحریک چلائی۔ یہ پوری تحریک عدم تشدد کے اصول پر چلائی گئی۔ تحریک کامیاب رہی۔ معروف اسلحہ کے استعمال کے بغیر انڈیا آزاد ہو گیا۔ اس فرق کا سبب حقیقہ امریکی لیڈروں کی تشدد پسندی یا مہاتما گاندھی کی امن پسندی نہیں۔ بلکہ زمانہ کا فرق ہے ۔ اٹھارویں اور انیسویں میں آزادی اور ڈیمو کریسی کے نظریات ابھی بہت زیادہ عام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page