دنیا انتظار میں ہے
Urdu book, p. 195
By Maulana Wahiduddin Khan
شراب کی ثابت شدہ خرابیوں کی بنا پر 1919 میں امریکہ کے دستور میں 18 ویں ترمیم منظور کی گئی۔ اس کے مطابق ، شراب کو مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا۔ مگر حکومت کے تمام ذرائع کو استعمال کرنے کے باوجود ملک سے شراب ختم نہیں ہوئی۔ بلکہ غیر قانونی شراب کا کاروبار بہت بڑے پیمانے پر سارے ملک میں پھیل گیا۔ آخر کار حکومت نے ہار مان لی ۔ 1933 میں دستور میں 21 ویں ترمیم کی گئی ۔ اس کے مطابق شراب کو دوبارہ ملک میں جائز قرار دے دیا گیا ۔ (233/VIII) اس کے برعکس اسلام میں جب ہجرت کے بعد شراب کی باقاعدہ حرمت کا حکم (المائدہ ۹۰) آیا اور مدینہ میں اس حکم کی منادی کی گئی تو فوراً ہی لوگوں نے شراب چھوڑ دی۔ جس کے پاس شراب کا ذخیرہ تھا اس کو اس نے زمین میں بہا دیا ۔ انسائیکلو پیڈیا برطانیکا (۴ ۱۹۸) میں اس تاریخی واقعہ کا اعتراف اس طرح کیا گیا ہے کہ اسلام میں ساتویں صدی میں شراب پر مذہبی کنٹرول کا بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا گیا۔ قرآن نے سادہ طور پر شراب کی مذمت کی اور اس کا نتیجہ محمد کے پیروؤں پر ایک مؤثر پابندی کی صورت میں ظاہر ہوا ، عرب میں بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی : Quite a different kind of religious control was adopted later in Islam: the Qur'an simply condemned wine, and the result was an effective prohibition wherever the devout followers of Muhammad in Arabia and other lands prevailed. (1/441-42). انسانوں میں بظاہر رنگ اور نسل وغیرہ کا فرق پایا جاتا ہے۔ تاریخ کے پچھلے زمانوں سے اب تک بہت سے لوگوں نے اس فرق کو امتیاز کے ہم معنی سمجھ لیا اس کے نتیجہ میں اعلیٰ نسل اور ادنیٰ نسل کا تصور پیدا ہوا۔ قرآن میں اس تصور کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ مختلف انسانی گروہوں میں فرق کا سبب امتیاز نہیں ہے بلکہ اس کا سبب تعارف (الحجرات ۱۳) ہے۔ اسی کے ساتھ اسلام نے عملی طور پر بے امتیاز سماج کا اعلیٰ نمونہ قائم کیا۔ مثلاً نماز کے لئے اذان پکارنے کا کام حبشی بلال کے سپرد کیا گیا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۵ / ۳۶۱) میں اعتراف کیا گیا ہے کہ اسلام نے جب مختلف ممالک افریقہ وغیرہ) فتح کئے تو کسی بھی مسلم ملک میں نسل کی بنیاد پر ذات پات کا نظام قائم نہ ہوسکا : None of the Muslim countries ever developed a racial caste system.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader