دنیا انتظار میں ہے
Urdu book, p. 196
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کی مذکورہ حیثیت اتنی واضح ہے کہ غیر مسلم مفکرین اور مورخین بھی اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔ تاہم اس کو موجودہ زمانہ میں واقعہ بنانے کی محنت ابھی باقی ہے ۔ آرنلڈ ٹوائن بی (۱۸۸۹ - ۱۹۷۵) کی مذکورہ کتاب پہلی بار ۱۹۲۸ میں چھپی ۔ گوالیورپ کے اس ممتاز مورخ نے یہ بات بیسویں صدی کے وسط میں کہی تھی ۔ اب بیسویں صدی ختم ہو رہی ہے ۔ تقریباً ۵۰ سال گزر گئے ، مگر مسلمان اب تک اس پکار کے لئے نہیں اٹھے ۔ البتہ اسی مدت میں سیاسی ہنگاموں ، قومی جھگڑوں اور گولی اور بم کے دھماکوں کے لئے وہ بار بار نہایت جوش و خروش کے ساتھ اٹھتے رہے ہیں ۔ یہ بلاشبہ ایک ناقابل معافی جرم ہے ۔ اور موجودہ زمانہ کے تمام مسلم رہنما اور دانش ور کسی ایک یا دوسری صورت میں یہی جرم کر رہے ہیں ۔ دنیا ان سے امن مانگ رہی ہے اور وہ اس کو جنگ دے رہے ہیں ۔ دنیا رحمت کی طالب ہے اور وہ اس کو مصیبت پیش کر رہے ہیں ۔ دنیا محبت کے انتظار میں ہے اور وہ اس کو نفرت کی خوراک دینا چاہتے ہیں ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو دوسری قوموں سے چوٹ پہنچی ۔ اس چوٹ کو وہ سہہ نہ سکے ۔ وہ رد عمل میں مبتلا ہو کر ان کے خلاف صف آرا ہوگئے ۔ مگر مسلمانوں کو جاننا چاہئے کہ اس چوٹ کو سہنا ہی دعوت الی اللہ کی قیمت ہے ۔ جو لوگ مدعو کی زیادتیوں پر صبر نہ کر سکیں وہ کبھی دعوت کا کام نہیں کر سکتے ۔ ایسے لوگ اگر دعوت اور داعی کا نام لیتے ہیں تو یہ بات ان کے جرم کے خانہ میں لکھی جانے والی ہے نہ کہ انعام کے خانہ میں ۔ جن لوگوں نے دعوت کی قیمت ہی ادا نہ کی ہو وہ دعوت کا انعام آخر کس طرح پا سکتے ہیں ۔ جیسا کہ عرض کیا گیا ، ٹوائن بی (Arnold J. Toynbee) نے اپنی کتاب تہذیب کی آزمائش (Civilization on Trial) میں لکھا ہے کہ جدید دنیا ، اپنی تمام مادی ترقیوں کے باوجود دو سنگین برائیوں میں مبتلا ہے جن سے چھٹکارا پانے کی کوئی صورت اسے نظر نہیں آتی ۔ یہ دونوں برائیاں ، شراب اور نسلی امتیاز ہیں ۔ مگر اسلام کے پاس اس کا حل موجود ہے اور اسلام نے عملاً ان برائیوں کا خاتمہ کر کے اس کو تاریخی طور پر ثابت کر دیا ہے ۔ آج کی بہت بڑی ضرورت ہے کہ دنیا کو اسلام کے اس روشن پہلو سے واقف کرایا جائے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader