عظمت صحابہ
Urdu book, p. 199
By Maulana Wahiduddin Khan
کے پابند بن گئے۔ اختیار رکھتے ہوئے انھوں نے سچائی کے سامنے اپنے کو بے اختیار کر لیا۔ ان کے لیے بے راہ روی کے مواقع موجود تھے مگر وہ بے راہ رو نہیں ہوئے۔ انھوں نے ہر معاملہ میں اپنے آپ کو راست روی کے اعلیٰ معیار پر پوری طرح قائم رکھا۔ پوری انسانی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی پیغمبر کو اس کے ہم عصر لوگوں نے پہچانا ہو۔ پچھلے پیغمبروں کو افراد ملے مگر انھیں جماعتیں نہ مل سکیں۔ اصحابِ رسول کا یہ انوکھا کارنامہ ہے کہ انھوں نے جماعت کی سطح پر اپنے ہم عصر پیغمبر کو پہنچانا اور بڑی تعداد میں اس کے مشن کو اپنا کر اس کے لیے اپنی زندگی وقف کردی۔ ان کے ساتھ بار بار وہ واقعات پیش آئے جن کو عذر بنا کر لوگ بک جاتے ہیں اور ساتھ چھوڑ دیتے ہیں، مگر انھوں نے کسی عذر کو عذر نہیں بنایا، وہ ہر قسم کی ناخوش گوار باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے آپ کی حمایت کرتے رہے، یہاں تک کہ اسی حال میں اس دنیا سے چلے گئے ۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر آخرالزماں کی حیثیت سے مبعوث کیا تھا۔ یہ سادہ طور پر صرف تقرر کا معاملہ نہ تھا، بلکہ ایک مشکل ترین منصوبہ کو بر روئے کار لانے کا معاملہ تھا۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ ایک وسیع الاثر انقلاب برپا کر کے وہ تاریخی اسباب ظہور میں لائے جائیں جس کے بعد آپ کی نبوت ہمیشہ کے لیے ایک مسلم نبوت کی حیثیت اختیار کرلے۔ آپ کا دین ناقابل شکست حد تک ایک محفوظ بن بن جائے ۔ آپ کی ذات اور آپ کا کارنامہ تاریخ میں اس طرح ثبت ہو جائے کہ کوئی مٹانے والا اس کو مٹانے میں کبھی کامیاب نہ ہو سکے ۔ یہ منصوبہ اسباب کی دنیا میں اور انسانی آزادی کے ماحول میں مکمل کرنا تھا۔ اس پہلو نے اس منصوبہ کو آخری حد تک ایک انتہائی مشکل منصوبہ بنا دیا۔ اصحابِ رسول نے اپنے آپ کو پوری طرح اس منصوبہ الہی میں شامل کیا۔ اس کی خاطر انھوں نے اپنی جان کو جان اور اپنے مال کو مال نہیں سمجھا۔ اس کے لیے انھوں نے اپنی انا کو کچلا۔ اپنے تاج کو اپنے پیروں کے نیچے روندا۔ اپنی محبوب چیزوں کو چھوڑ کر وہ اس کی طرف بڑھے۔ انھوں نے نہ ماننے والی بات کو مانا۔ انھوں نے ناقابل برداشت کو برداشت کیا۔ پیغمبر کو پانے کے لیے انھوں نے اپنا سب کچھ کھو دیا کسی بھی شرط اور کسی بھی تحفظ کے بغیر وہ آپ کے شریک کار بن گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اصحابِ رسول انسانی تاریخ کے ایک منفر دگردہ تھے۔ اصحاب رسول کی عظمت اس سے زیادہ ہے کہ کوئی شخص اس کو لفظوں میں بیان کر سکے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader