فطری اوصاف
Urdu book, p. 200
By Maulana Wahiduddin Khan
فطری اوصاف ابتدائی دور کے سماج (primitive society) کے بارہ میں اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں جو مطالعہ کیا گیا، اس میں یہ مان لیا گیا تھا کہ یہ لوگ ذہنی اور اخلاقی اعتبار سے کمتر (mentally and morally inferior) تھے۔ مگر بیسویں صدی میں علم الانسان (Anthropology) کے علماء نے جو تحقیقات کی ہیں، اس کے بعد صورت حال بالکل بدل گئی ہے۔ اب معلوم ہوا ہے کہ ابتدائی دور کا انسان نہایت اعلیٰ انسان تھا۔ تہذیبی ساز وسامان میں بظاہر وہ پیچھے تھا۔ مگر انسانی اوصاف کے اعتبار سے وہ معیاری انسان کی حیثیت رکھتا تھا۔ (382/VII) اس جدید تحقیق کے بعد سماجیات میں ایک نیا شعبہ فن وجود میں آیا ہے جس کو پر میٹیوزم (Primitivism) کہا جاتا ہے۔ اس فن میں ابتدائی دور کے انسان کا مطالعہ اس اعتبار سے کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی صفات کے اعتبار سے آئیڈیل انسان تھا اور آج کے انسان کو اسی کی پیروی کرنا چاہیے (212/VIII) یہ نظریہ اسلام کے تصور تاریخ کے عین مطابق ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی دور کے لوگ امت واحدہ تھے (البقرہ ۲۱۳) یعنی وہ اس واحد صحیح راستہ پر رکھتے جو خدا نے ان کے لیے انسان اول (آدم) کی پیدائش کے وقت مقرر کر دیا تھا۔ ایک عرصہ کے بعد وہ اس راستہ سے ہٹ گئے۔ ان میں بگاؤ اور اختلاف پیدا ہو گیا ۔ جب انسانی آبادی پر بگاڑ کا دور شروع ہوا تو خدا نے پیغمبر بھیجنے شروع کیے۔ یہاں تک کہ آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ ابتدائی دور کا انسان صحیح کیوں تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فطرت پر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر جو فطرت بنائی ہے، وہ انتہائی معیاری صفات کی حامل ہے ۔ جب تک آدمی اپنی اس پیدائشی فطرت پر تھا، وہ اعلیٰ انسانی صفات سے متصف تھا، اس کے بعد تمدن کا دور شروع ہوا ۔ اس مصنوعی تمدن نے انسان کو بگاڑنا شروع کیا۔ اب انسان کی فطرت دب گئی اور اس پر مصنوعی تمدنی صفات غالب آگئیں ۔ فطرت کا یہی بگاڑ ہے جس کا نتیجہ یہ تھا کہ بعد کے دور میں آنے والے پیغمبروں کا انکار کیا جاتا رہا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader