Urdu book · عظمتِ اسلام

فطری اوصاف

Urdu book, p. 201

By Maulana Wahiduddin Khan

اس بگاڑ کی بنا پر انسانی فطرت اور دینِ خداوندی میں مطابقت باقی نہ رہی۔ انسان اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی وجہ سے پیغمبروں کو پہچاننے اور ان کی آواز پر لبیک کہنے والا نہ بن سکا۔ یہ صورتِ حال ہزاروں سال تک جاری رہی۔ حضرت ابراہیم کا پیغام جب اہل عراق کو متاثر نہ کر سکا تو انسان کی نااہلی آخری طور پر واضح ہو گئی۔ اب اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ منصوبہ بندی کی گئی کہ انسان کو دوبارہ غیر تمدنی دنیا کی طرف واپس لے جایا جائے۔ اس منصوبے کے مطابق، حضرت ابراہیم کے بیٹے حضرت اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسادیا گیا جہاں اس وقت صرف فطرت کا ماحول تھا۔ فطرت کے مناظر کے سوا وہاں کوئی اور چیز موجود نہ تھی۔ اس صحرائی ماحول میں ایک ایسی نسل کی تیاری شروع ہوئی جو تمدن سے مکمل طور پر منقطع ہو کر پرورش پاسکے۔ توالد و تناسل کے ذریعہ یہ نسل بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ ڈھائی ہزار سال میں ایک نئی قوم بن کر تیار ہو گئی ۔ اس نئی قوم کے ہر فرد میں وہ اعلیٰ فطری اوصاف پوری طرح موجود تھے جو ابتدائی دور کے انسان میں پائے جاتے تھے۔ یہی فطری یا انسانی اوصاف اس صحرائی قوم کی شناخت بن گئے۔ قدیم عربوں میں اعلیٰ انسانیت کو بنانے کے لیے کچھ الفاظ رائج تھے ۔ مثلاً الفتوة ، المروءة، الرجولیة، وغیرہ۔ اردو میں اس کو جواں مردی یا مردانگی کہہ سکتے ہیں ۔ اس سے عربوں کی مراد وہی چیز ہوتی تھی جس کو آج " ابتدائی انسانی اوصاف" کہا جاتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ بنو اسماعیل کی یہ صحرائی قوم قدیم ابتدائی سماج کا ایک احیاء تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے " معادنِ عرب " کے بارے میں پوچھا گیا۔ فرمایا کہ تم میں سے جو لوگ جاہلیت میں اچھے تھے وہ اسلام میں بھی اچھے ہوں گے ( خیارکم فی الجاہلیة خیارکم فی الاسلام) دورِ اول کے عرب اہلِ اسلام کے غیر معمولی اوصاف بھی اسی کا نتیجہ تھے ۔ انس بن مالکؓ صحابہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ، ہم جھوٹ نہیں بولتے تھے اور نہ ہم جانتے تھے کہ جھوٹ کیا ہے ( والله ما كنا نكذب ولا کنا ندری ما الكذب) عرب کے صحرا میں اعلیٰ فطری اوصاف سے متصف جو انسان تیار کئے گئے تھے، انھیں کے منتخب افراد ایمان لا کر اصحابِ رسول بنے ۔ یہ ایک بہترین خام مادہ تھا جو اسلام کی معرفت اور پیغمبر کی رفاقت سے جلا پا کر چمک اٹھا ( تفصیل کیلئے: حقیقت حج ۵۲ - ۵۸ )

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page