حمیت جاہلیہ نہیں
Urdu book, p. 216
By Maulana Wahiduddin Khan
حمیت جاہلیہ نہیں قرآن کی سورہ الفتح میں اللہ کی اس خصوصی نصرت کا ذکر ہے جو اصحاب رسول کو حاصل ہوئی۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ انھوں نے صراط مستقیم کو پالیا۔ وہ دشمنوں کے ہاتھ سے محفوظ ہوگئے۔ زمین پر دین خداوندی کا اظہار ہوا۔ مخالفین کے علی الرغم انھیں فتح مبین حاصل ہوئی۔ اصحاب رسول کا وہ کون سا عمل تھا جس کے نتیجہ میں وہ اللہ کی اس خصوصی رحمت ونصرت کے مستحق قرار پائے، اس کا ذکر سورہ الفتح کی متعدد آیتوں میں موجود ہے۔ ایک آیت یہ ہے : إذ جعل الذين كفروا في قلوبهم جب انکار کرنے والوں نے اپنے دلوں میں حمیت الحمية حمية الجاهلية فأنزل الله پیدا کی، جاہلیت کی حمیت۔ پھر اللہ نے اپنی طرف سے سكينته على رسوله وعلى المؤمنين سکینت نازل فرمائی اپنے رسول پر اور ایمان والوں والزمهم كلمة التقوى وكانوا احق بها پر اور اللہ نے ان کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا، واه لها وكان الله بكل شيئ عليما اور وہ اس کے زیادہ حقدار اور اس کے اہل (الفتح ۲۶) تھے۔ اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ اس آیت میں اصحاب رسول کے اس رویہ کا ذکر ہے جو انھوں نے واقعہ حدیبیہ کے موقع پر اختیار کیا۔ اس رویہ کو یک طرفہ صبر، یا اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہونا کہہ سکتے ہیں۔ ۶ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تقریباً ڈیڑھ ہزار اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تاکہ وہاں پہنچ کر عمرہ ادا کریں۔ آپ مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تھے کہ مکہ کے مشرکین نے آگے بڑھ کر آپ کو روک دیا اور کہا کہ ہم آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ انھوں نے اس معاملہ کو اپنے لیے وقار کا مسئلہ بنالیا۔ آپ کو واپسی پر مجبور کرنے کے لیے انھوں نے مختلف قسم کی جارحانہ کارروائیاں کیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب ہر موقع پر جوابی جارحیت سے بچتے رہے تاکہ دونوں فریقوں کے درمیان تصادم کی نوبت نہ آئے۔ اس دوران مکہ والوں کی طرف سے مختلف وفد بات چیت کے لیے آتے رہے۔ آخر کار یہ طے پایا کہ دونوں فریقوں کے درمیان لمبی مدت کا ایک معاہدہ ہو جائے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader