Urdu book · عظمتِ اسلام

حمیت جاہلیہ نہیں

Urdu book, p. 213

By Maulana Wahiduddin Khan

تاکہ دونوں اپنی اپنی حد پر رہیں اور کوئی کسی کے اوپر زیادتی نہ کر سکے۔ حدیبیہ کے واقعہ کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ آخری مرحلہ میں جب معاہدہ لکھا جانے لگا تو قریش مکہ کے نمائندہ کی طرف سے نہایت اشتعال انگیز رویہ اختیار کیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدہ کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھوایا۔ قریش کے نمائندہ نے کہا کہ ہم اس کو نہیں مانتے، آپ بسمک اللھم لکھیے۔ پھر آپ نے لکھا یا کہ محمد رسول اللہ کی طرف سے “۔ قریش کے نمائندہ نے اس کو بھی رد کر دیا اور کہا کہ محمد بن عبداللہ لکھیے۔ یہ باتیں بے حد جگر خراش تھیں مگر صحابہ پر اللہ نے “سکینت“ اتاری اور وہ ان شرطوں پر راضی ہو گئے۔ اسی طرح قریش کے نمائندہ نے معاہدہ میں یہ لکھوایا کہ مکہ کا کوئی آدمی اسلام قبول کر کے مدینہ چلا جائے تو آپ اس کو ہماری طرف لوٹانے کے پابند ہوں گے۔ اور اگر مدینہ کا کوئی آدمی ہم پکڑ لیں تو ہم اس کو آپ کی طرف نہیں لوٹائیں گے۔ یہ یک طرفہ شرط توہین کی حد تک ناقابل برداشت تھی مگر اصحاب رسول نے اللہ کی خاطر اس کو بھی برداشت کر لیا۔ معاہدہ کی کتابت کے دوران مکہ کے ایک مسلمان ابو جندل وہاں آگئے۔ ان کے پاؤں میں لوہے کی بیڑیاں پڑی ہوئی تھیں اور ان کا جسم زخمی ہو رہا تھا۔ قریش کے نمائندہ نے کہا کہ معاہدہ کے مطابق ابو جندل کو ہماری طرف واپس کیجئے۔ ابو جندل نے کہا کہ کیا میں کافروں کی طرف لوٹایا جاؤں گا تاکہ وہ مجھے فتنے میں ڈالیں۔ یہ بڑا نازک لمحہ تھا مگر اپنے کھولتے ہوئے جذبات کو دبا کر اصحاب رسول اس مطالبہ پر بھی راضی ہو گئے۔ یہ صحابہ کی شخصیت کا ایک انوکھا پہلو تھا۔ وہ مسلسل اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہیں ہوئے۔ جارحیت کے باوجود انھوں نے جوابی کارروائی نہیں کی۔ عمرہ کو وقار کا مسئلہ بنائے بغیر وہ حدیبیہ سے واپسی پر راضی ہو گئے۔ انھوں نے فریق ثانی کی یک طرفہ شرطوں کو مان کر جنگ کی حالت کو امن کی حالت میں بدل دیا۔ واقعہ حدیبیہ کے دوران فریق ثانی نے ناقابل برداشت حالات پیدا کیے ۔ مگر اصحاب رسول ان کو برداشت کرتے رہے۔ مخالفین کی حمیت جاہلیہ کا جواب انھوں نے اسلامی سکینت کی صورت میں دیا۔ اصحاب رسول کا یہ رویہ اللہ تعالیٰ کو پسند آیا۔ اس نے اپنی اعلیٰ تدبیر سے ایسے راستے کھولے کہ اصحاب رسول کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ وہ مکہ کو فتح کر لیں۔ یہود کی جڑیں کاٹ دیں ، اور پورے عرب میں اسلام کو ایک غالب دین کی حیثیت سے قائم کر دیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page