وقافا عند کتاب اللہ
Urdu book, p. 213
By Maulana Wahiduddin Khan
وقافا عند کتاب اللہ قرآن کی ایک تعلیم وہ ہے جس کو اعراض کہا جاتا ہے۔ یعنی نادان لوگوں کی اشتعال انگیز باتوں پر مشتعل نہ ہونا، حتیٰ کہ اگر اس قسم کی بات کو سن کر غصہ کی آگ بھڑک اٹھے تو اس کو شیطانی وسوسہ سمجھ کر اس سے پناہ مانگنا۔ اور ہر حال میں نظر انداز کرنے کے رویہ پر قائم رہنا۔ اس سلسلہ میں قرآن کا حکم یہ ہے : خذ العفو وأمر بالعرف واعرض درگزر کرو اور نیکی کا حکم دو اور جاہلوں سے اعراض عن الجاهلين۔ واما ينزغنك کرو۔ اور اگر تم کو کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے من الشيطان نزغ فاستعذ بالله آئے تو اللہ کی پناہ چاہو۔ بے شک وہ سننے والا انه سميع عليم۔ ان الذين اتقوا جاننے والا ہے۔ جو لوگ اللہ کا ڈر رکھتے ہیں، جب اذا مسهم طائف من الشيطان ان کو شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال چھو جاتا ہے تذكروا فاذا هم مبصرون۔ تو وہ فوراً چونک پڑتے ہیں۔ اور پھر اسی وقت ان واخوانهم يمدونهم في الغی کو سوجھ آ جاتی ہے۔ اور جو لوگ شیطان کے بھائی ثم لا يقصرون ( الاعراف ۲۰۲۔ ۱۹۹) ہیں وہ ان کو گمراہی میں کھینچے چلے جاتے ہیں، پھر وہ کمی نہیں کرتے۔ صحیح البخاری، کتاب التفسیر (سورۃ الاعراف) میں باب خذ العفو وأمر بالعـرف واعرض عن الجاھلین کے تحت ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے۔ یہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ کا واقعہ ہے۔ وہ واقعہ یہ ہے : عبید اللہ بن عبد اللہ بن عقبہ کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن عباسؓ نے ان سے بیان کیا۔ عیینہ بن حصن بن حذیفہ مدینہ آئے اور اپنے بھتیجے الحر بن قیس کے مکان پر ٹھہرے ۔ الحر بن قیس ان لوگوں میں سے تھے جن کو عمر اپنے قریب جگہ دیتے تھے۔ وہ ان کے مشیروں میں سے تھے۔ عیینہ نے اپنے بھتیجے سے کہا کہ اے میرے بھتیجے، تم کو امیر المومنین کے یہاں قربت حاصل ہے۔ میری ان سے ملاقات کرا دو۔ اس کے بعد الحر نے عمر سے ملاقات کی اجازت مانگی۔ انھوں نے اجازت دے دی۔ عیینہ جب عمرؓ کے یہاں پہنچے تو انھوں نے کہا کہ اے خطاب کے بیٹے ! خدا کی قسم تم ہم کو نہ کچھ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader