بے لاگ انصاف
Urdu book, p. 226
By Maulana Wahiduddin Khan
کیونکہ خود آپ سے میں نے سنا ہے کہ بیٹے کی گواہی باپ کے حق میں معتبر نہیں۔ اس کے بعد حضرت علی نے قاضی شریح کے فیصلے کو قبول کر لیا۔ اس واقعہ کا نصرانی کے اوپر بہت اثر ہوا۔ اس نے کہا کہ خدا کی قسم اے امیر المومنین ، یہ زرہ آپ ہی کی ہے۔ آپ کے اونٹ سے وہ گر گئی تھی۔ پھر میں نے اس کو اٹھا لیا۔ پھر نصرانی نے کہا کہ اسلام کی یہ بات بہت عجیب ہے کہ امیر المومنین خود میرے ساتھ قاضی کے پاس آئے۔ قاضی اس کے خلاف فیصلہ کرے اور وہ اس فیصلہ پر راضی ہو جائے۔ اس کے بعد نصرانی نے کلمہ اسلام پڑھ کر کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ حضرت علی نے کہا کہ جب تم نے اسلام قبول کر لیا تو یہ زرہ اب تمہاری ہے۔ اسی کے ساتھ اس کو سات سو درہم اور ایک گھوڑا دیا۔ اس کے بعد وہ شخص حضرت علی کا ساتھی بن گیا۔ یہاں تک کہ جنگ صفین میں لڑتے ہوئے شہید ہوا ( حیات الصحابہ ۴۵/۱ - ۲۴۷) قدیم زمانہ میں ہمیشہ حکمران کو قانون سے بالاتر سمجھا جاتا تھا۔ یہ ناقابل تصور تھا کہ ایک حکمران کو عدالت میں معمولی انسان کی طرح کھڑا کیا جاسکے۔ موجودہ جمہوری زمانہ میں اگرچہ خالص قانونی اعتبار سے حکمران اور عوام کو برابر سمجھا جاتا ہے۔ تاہم آج بھی عملی طور پر یہ ناممکن ہے کہ ایک برسر اقتدار شخص کو عدالت میں بلایا جائے اور بنج کی کرسی پر بیٹھنے والا آدمی عام انسانوں کی طرح اس کے اوپر قانون کا نفاذ کرے ۔ پوری معلوم تاریخ میں یہ صرف اصحاب رسول ہیں جنھوں نے یہ استثنائی مثال قائم کی کہ ان کے ایک حاکم کو عدالت میں لایا جائے اور ایک عام انسان کی طرح مقدمہ چلا کر اس کے معاملہ کا فیصلہ کیا جائے۔ انسانی ضمیر یہ چاہتا ہے کہ ہر آدمی یکساں طور پر قانون کے سامنے جواب دہ ہو۔ مگر انسانی ضمیر کی یہ طلب حقیقی معنوں میں صرف ایک ہی دور میں عملی واقعہ بن سکی ، اور وہ بلاشبہ اصحاب رسول کا دور ہے۔ بادشاہ پر یکساں انصاف کی بات اصحاب رسول سے پہلے صرف افسانہ کی کتابوں میں تھی۔ اصحاب رسول نے اس کو افسانہ سے اٹھا کر حقیقی زندگی کا واقعہ بنا دیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader