سیاسی بے غرضی
Urdu book, p. 246
By Maulana Wahiduddin Khan
سیاسی بے غرضی 12 ربیع الاول ااھ کو مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی ۔ اس کے بعد یہ سوال پیدا ہوا کہ آپ کے بعد مسلمانوں کا امیر کون ہو۔ اس وقت مدینہ میں مسلمانوں کے دو بڑے گروہ تھے مہاجرین اور انصار۔ انصار کا خیال تھا کہ امارت ان کا حق ہے۔ کیونکہ رسول اور مہاجر صحابہ کو جب مکہ چھوڑنا پڑا تو انصار نے اس پورے قافلہ کو اپنے شہر مدینہ میں جگہ دی۔ وہ ہر اعتبار سے ان کے مددگار بن گئے۔ ان کی حیثیت اس وقت اگرچہ ایک "لٹے ہوئے قافلہ" کی تھی مگر انصار نے ان کی عزت اور احترام میں کوئی کمی نہیں کی۔ انصار کی مسلسل حمایت اور قربانی کے ذریعہ اسلام مضبوط ہوا اور اس کی شاندار تاریخ بنی۔ ان اسباب کی بنا پر انصار کا یہ خیال تھا کہ امارت ان کا حق ہے۔ انصار کے لوگ اس معاملہ کو طے کرنے کے لیے اپنے قبیلہ کی چو پال (سقیفہ بنی ساعدہ) میں جمع ہوئے۔ یہاں تک معاملہ پہنچ چکا تھا کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور دوسرے مہاجرین کو خبر ہوئی۔ وہ فوراً سقیفہ بنی ساعدہ پہنچے۔ کیونکہ اس معاملہ میں معمولی غفلت بھی نہایت دور رس نتیجہ پیدا کرنے کا سبب بن سکتی تھی۔ انصار کا یہ خیال درست تھا کہ ان کو مخصوص فضیلتیں حاصل ہیں۔ مگر دینی فضیلت ایک الگ چیز ہے اور سیاسی قیادت اس سے مختلف دوسری چیز۔ دینی فضیلت کسی بھی شخص کے اندر ہوسکتی ہے۔ مگر سیاسی قیادت صرف وہ لوگ کر سکتے ہیں جن کے حق میں قیادت کے تاریخی اسباب جمع ہوئے ہوں۔ حضرت ابو بکر سقیفہ بنی ساعدہ پہنچے۔ تو وہاں انصار کے بزرگ قائد سعد بن عبادہ بھی موجود تھے۔ حاضرین کا رجحان یہ تھا کہ سعد بن عبادہ کو امیر المومنین بنایا جائے ۔ حضرت ابو بکر نے سعد بن عبادہ سے کہا کہ کیا تم کو یاد نہیں کہ تمہاری موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ : قريش ولاة هذا الامر۔ اور الناس تبع لقريش۔ یعنی عرب میں سیاسی سرداری صرف قریش ہی کر سکتے ہیں۔ عرب کے لوگ ان کے سوا کسی اور کی ماتحتی قبول کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے۔ حضرت ابو بکر نے انصار سے کہا کہ تمہاری دینی خدمت اور اسلام کے اندر تمہارا مقام مسلم ہے۔ لیکن عرب کے لوگ قریش کی قیادت کے سوا کسی اور کی قیادت سے آشنا نہیں ہیں۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تقریر کے بعد تمام انصار اس پر راضی ہو گئے کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader