حکومت کے باوجود
Urdu book, p. 230
By Maulana Wahiduddin Khan
حکومت کے باوجود قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ یہ آخرت کا گھر ، ہم ان لوگوں کو دیں گے جو زمین میں نہ بڑا بننا چاہتے ہیں اور نہ فساد کرنا۔ اور آخری انجام ڈرنے والوں کے لیے ہے ( تلك الدار الآخرة نجعلها للذين لا يريدون علوا في الأرض ولا فسادا والعاقبة للمتقين) القصص ۸۳ اس طرح کی آیتیں اور احکام قرآن میں بہت ہیں۔ یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ زمین میں بڑا کون بنتا ہے اور کون ہے جو زمین میں فساد کرتا ہے۔ اگرچہ ایک عام انسان بھی اپنے دائرہ میں اور فساد کا مظاہرہ کرتا ہے۔ مگر یہ کام زیادہ بڑے پیمانہ پر وہ لوگ کرتے ہیں جن کو زمین میں اقتدار ملا ہوا ہو۔ جن کو وہ اختیار حاصل ہو جس کے بل پر کوئی شخص زمین کو فساد سے بھر دیتا ہے۔ اس اعتبار سے صحابہ کرام کا گروہ تاریخ کا واحد گروہ ہے جو اس مطلوب انسانی قدر کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اقتدار ملا، مگر اقتدار نے ان کے اندر گھمنڈ پیدا نہیں کیا۔ ان کو زمین میں بڑائی ملی، مگر انھوں نے ایک عام آدمی کی طرح دنیا میں زندگی گزاری۔ وہ اعلیٰ اختیارات کے مالک تھے، مگر اختیار پانے کے باوجود وہ مفسد اور ظالم نہیں بنے۔ یہاں خلیفہ دوم عمر فاروق کا ایک واقعہ نقل کیا جاتا ہے جو اس معاملہ میں ایک علامتی مثال کی حیثیت رکھتا ہے : عن الفضل بن عميرة ، ان الاحنف بن قيس قدم على عمر بن الخطاب في وفد من العراق - قدموا عليه في يوم صائف شديد الحر وهو محتجز بعباءة يهنأ بعيرا من ابل الصدقة - فقال : يا احنف ضع ثيابك وهلم فأعن امير المؤمنين على هذا البعير فانه لمن ابل الصدقة ، فيه حق لليتيم والمسكين والارملة - فقال رجل من القوم - يغفر الله لك يا امير المؤمنين ، فهلا تأمر عبدا من عبيد الصدقة فيكفيك هذا ۔ قال عمر : وأي عبد هو أعبد منى - (تاریخ عمر بن الخطاب، لابن الجوزی، صفحه ۷۱) فضل بن عمیرہ کہتے ہیں کہ احناف بن قیس ایک عراقی وفد کے ساتھ عمر بن الخطاب کے پاس مدینہ آئے۔ وہ گرمی کے موسم میں آئے تھے جب کہ گرمی بہت سخت تھی۔ عمر اپنی کم پر ایک جو باندھے ہوئے تھے اور ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader