Urdu book · عظمتِ اسلام

حکومت کے باوجود

Urdu book, p. 231

By Maulana Wahiduddin Khan

اونٹ کی مالش کر رہے تھے جو کہ بیت المال کا اونٹ تھا۔ انھوں نے کہا کہ اے احنف ، اپنے کپڑے اتار دو اور اس اونٹ کے معاملہ میں امیر المومنین کی مدد کرو ، کیونکہ یہ بیت المال کا اونٹ ہے۔ اس میں یتیم اور مسکین اور بیواؤں کا حصہ ہے۔ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ اللہ آپ کو معاف کرے اے امیر المومنین ، کیوں نہیں آپ نے بیت المال کے غلاموں میں سے کسی غلام کو حکم دے دیا ، وہ آپ کی طرف سے اس کام کو انجام دے دیتا۔ عمر نے جواب دیا : مجھ سے زیادہ غلام کون ہے۔ اقتدار پانے کے بعد آدمی بگڑ جاتا ہے۔ یہ مظہر اتنا عام ہے کہ لارڈ ایکٹن (۱۹۰۲ - ۱۸۳۴) کا یہ قول ضرب المثل بن گیا ہے کہ اقتدار بگڑتا ہے اور کامل اقتدار بالکل ہی بگاڑ دیتا ہے : Power corrupts and absolute power corrupts absolutely. مگر تاریخ میں گروہ کے اعتبار سے صحابہ کرام کی مثال ایک استثنائی مثال ہے کہ ان کو زمین پر اقتدار ملا ، لیکن اقتدار ان کو بگاڑنے والا نہ بن سکا۔ انھیں لوگوں کے اوپر حکومت حاصل تھی ، مگر وہ محکوموں میں سے ایک محکوم بن کر لوگوں کے درمیان رہے۔ صحابہ کے دور میں خلیفہ اور امرا اور حکام کے یہاں اس کی مثالیں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ صحابہ کرام تاریخ کی واحد مثال بن گئے جن کے حوالہ سے حکمرانوں کو سادہ اور معمولی زندگی گزارنے کی تلقین کی جائے۔ ۱۹۳۰ میں پہلی بار ہندوستان میں کانگریس کی وزارت بنی تو مہاتما گاندھی نے اپنے انگریزی اخبار میں کانگریسی وزیروں کو سادہ زندگی کا مشورہ دیتے ہوئے لکھا کہ میں آپ لوگوں کے سامنے رام چندر اور کرشن کا حوالہ نہیں دے سکتا، کیونکہ وہ تاریخی شخصیات نہیں ہیں، میں مجبور ہوں کہ سادگی کے نمونہ کے لیے ابو بکر اور عمر کا نام پیش کروں۔ وہ اگر چہ بہت بڑی سلطنت کے مالک تھے مگر انھوں نے مفسلوں کی طرح زندگی گزاری (ہر یجن ، ۲، جولائی ، ۱۹۳۰) حکومت داقتدار کے باوجود معمولی زندگی گزار نا کوئی سادہ سی بات نہیں۔ یہ تمام مشکل کاموں میں سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ اس معیار پر وہ لوگ پورے اترتے ہیں جن کے لیے عہدہ اعزاز کی چیز نہ ہو بلکہ ذمہ داری کی چیز ہو۔ جوز زندگی کے ذرائع کو سامان راحت نہیں بلکہ سامان آزمائش سمجھتے ہوں ۔ جو اپنے نفس کی خواہش پر چلنے کے بجائے اپنے ایمانی شعور کے تحت عمل کرتے ہوں۔ صحابہ کرام دہ ربانی لوگ تھے جنہوں نے اس مشکل طریقہ کو اس کی تمام مشکلوں کے باوجود اپنی زندگی میں اختیار کیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page