Urdu book · عظمتِ اسلام

نئے دور کے نقیب

Urdu book, p. 238

By Maulana Wahiduddin Khan

نئے دور کے نقیب خلیفہ دوم عمر فاروق رض کے زمانہ میں ایران فتح ہوا۔ مسلمانوں کی مسلح فوجوں کے سپہ سالار حضرت سعد بن ابی وقاص تھے۔ اس زمانہ کے واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ ایرانی بادشاہ یزدگرد کی ہدایت پر اس کے سپہ سالار رستم نے حضرت سعد کو یہ پیغام بھیجا کہ صلح کی بات چیت کے لیے اپنے آدمیوں کا ایک وفد بھییجے۔ اس دوران جو لوگ ایرانی حکمرانوں سے بات کرنے کے لیے ان کے یہاں گئے، ان میں سے ایک حضرت ربعی بن عامر تھے۔ ربعی بن عامر رستم کے دربار میں پہنچے۔ اس نے اپنے دربار کو نہایت شاندار طور پر سجایا تھا۔ قیمتی قالین، عالی شان تخت ، سونا چاندی اور ہیرے اور جواہر کے آرائشی سامانوسے وسیع خیمہ جگمگا رہا تھا۔ رستم اپنے سر پر سنہری تاج پہنے ہوئے اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ ربعی بن عامر کے جسم پر نہایت معمولی کپڑا تھا۔ وہ ایک تلوار لٹکائے ہوئے اور ایک چھوٹے گھوڑے پر سوار ہو کر اندر داخل ہوئے۔ وہ گھوڑے سے اترے نہیں، یہاں تک کہ وہ رستم کے تخت تک پہنچ گئے۔ تخت کے پاس پہنچ کر وہ گھوڑے سے اترے اور قالین میں اپنا نیزہ گاڑ کر اس سے اپنے گھوڑے کو باندھ دیا۔ رستم کے آدمیوں نے اس بے باکانہ انداز پر اعتراض کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ میں خود سے نہیں آیا ہوں۔ بلکہ تمھارے بلانے پر آیا ہوں۔ اگر تم مجھ کو میرے حال پر رہنے دو تو ٹھیک ہے ، ورنہ میں واپس چلا جاؤں گا۔ رستم نے اپنے آدمیوں کو روکا اور کہا کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو، ان سے تعرض نہ کرو۔ رستم نے مختلف سوالات کیے جس کا انھوں نے دوٹوک انداز میں جواب دیا۔ رستم کے ایک سوال کا جواب انھوں نے ان الفاظ میں دیا : فقال : اللهُ إبتعثنا لتخرج من شاء انھوں نے کہا کہ اللہ نے ہم کو بھیجا ہے تاکہ اللہ من عبادة العباد الى عبادة الله۔ کے بندوں میں سے جس کو وہ چاہے ہم اس کو و من ضيق الدنيا الى سعتها بندوں کی عبادت سے نکال کر اللہ کی عبادت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page