Urdu book · عظمتِ اسلام

نئے دور کے نقیب

Urdu book, p. 239

By Maulana Wahiduddin Khan

ومن جور الادیان الی عدل الاسلام۔ کی طرف لے آئیں، اور دنیا کی تنگی سے دنیا کی وسعت کی فارسلنا بدينه الى خلقه طرف، اور مذہبوں کے ظلم سے اسلام کے عدل کی طرف۔ لندعوهم الیه۔ فمن قبل پس اللہ نے ہم کو اپنے دین کے ساتھ اپنی مخلوق کی طرف ذلك قبلنا منه ورجعنا عنه۔ بھیجا ہے تاکہ ہم لوگوں کو اس کی طرف بلائیں۔ پس جو ومن ابى قاتلناه ابدا حتى نفضنى اس کو قبول کر لے ہم بھی اس سے قبول کر لیں گے اور الی موعود الله (البدایہ والنہایہ ۳۹/۷) اس سے واپس چلے جائیں گے۔ اور جو کوئی انکار کرے اس سے ہم لڑیں گے یہاں تک کہ اس کو اللہ کے وعدہ تک پہنچا دیں۔ صحابی کے یہ الفاظ کوئی سادہ الفاظ نہ تھے۔ اس میں دراصل اس عظیم انقلاب کی طرف اشارہ تھا جو اصحاب رسول کے ذریعہ لایا گیا اور جس نے عالمی سطح پر انسانی تاریخ کو بدل دیا۔ اس کی تفصیل راقم الحروف کی کتاب ”اسلام دورِ جدید کا خالق “ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت دنیا کی صورتِ حال یہ تھی کہ ساری دنیا میں نسلی بادشاہت کا رواج تھا۔ اس بادشاہت نے ہر جگہ جبر کی وہ فضا پیدا کر رکھی تھی جس کو ہنری پرین نے شاہانہ مطلقیت (imperial absolutism) کہا ہے۔ ایک شخص جس کے سر پر حکومت کا تاج ہو وہ سب کا آقا تھا، اور تمام لوگ اس کے غلام۔ مشرکانہ مذہب اور مطلق شہنشاہیت دونوں نے مل کر فطرت کے سائنسی مطالعہ کا دروازہ بند کر رکھا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ فطرت میں چھپی ہوئی خدا کی تمام نعمتیں بے دریافت اور غیر استعمال شدہ بنی ہوئی تھیں ۔ مذہب میں مذہبی پیشواؤں کا مکمل قبضہ تھا۔ وہ دنیا میں خدا کے نمائندہ بن کر انسانوں کو اپنا بندہ بنائے ہوئے تھے۔ ان کے گڑے ہوئے مصنوعی مذہب کے نیچے پوری انسانیت پس رہی تھی۔ اس پیشیوائی نظام سے اختلاف کرنے والے کو سخت ترین سزا دی جاتی تھی تا کہ لوگ دبے رہیں اور اس سے بغاو ت کی جرات نہ کر سکیں۔ اللہ کو مطلوب تھا کہ اس حالت کو بدلا جائے ۔ اصحابِ رسول نے غیر معمولی قربانیوں کے ذریعہ جبر کے اس نظام کو توڑا۔ انھوں نے انسان کے اوپر خدائی رحمتوں کا در دروازہ کھول دیا جو ہزاروں سال سے ان کے اوپر بند پڑا ہوا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page