Urdu book · عظمتِ اسلام

دنیا کے لیے رحمت

Urdu book, p. 242

By Maulana Wahiduddin Khan

دنیا کے لیے رحمت پیغمبروں کے بارہ میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہ رہی ہے کہ ان کی مخاطب قوم اگر ان کو نہ مانے تو اس کو زمینی یا آسمانی عذاب کے ذریعہ ہلاک کر دیا جائے ۔ چنانچہ پچھلے زمانوں میں ایسا ہوا کہ پیغمبروں کی مخاطب قومیں اپنے انکار کے سبب سے بار بار ہلاک کی جاتی رہیں (العنکبوت ۴۰) آخر کار اللہ نے چاہا کہ ایک ایسا پیغمبر بھیجے جس کے بعد ہلاکت کا مذکورہ سلسلہ ختم ہو جائے۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم یہی خاص پیغمبر تھے۔ اسی لیے قرآن میں آپ کو دنیا والوں کے لیے رحمت (الانبیاء ۱۰۷) کہا گیا ہے۔ اس آیت سے متعلق مفسرین کے کچھ اقوال یہاں نقل کیے جاتے ہیں : قوله تعالى (وما ارسلناك الا رحمة " اور ہم نے تم کو بس رحمت بنا کر بھیجا ہے" اس کی للعالین) قال سعيد بن جبير عن ابن تفسیر میں عبداللہ بن عباس نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم عباس قال : كان محمد صلى الله عليه تمام انسانوں کے لیے رحمت تھے۔ جو آدمی آپ پر وسلم رحمة لجميع الناس فمن آمن ایمان لایا اور آپ کی تصدیق کی اس نے سعادت به وصدق به سعد ومن لم يؤمن به حاصل کی اور جو آدمی آپ پر ایمان نہیں لایا وہ زمین سلم مما لحق الأمم من الخسف میں دھنسنے اور غرق ہونے کے اس عذاب سے والغرق ( الجامع لاحکام القرآن ۱۱/ ۳۵۰) بچ گیا جو دوسری قوموں کو پیش آیا۔ فان قيل فاي رحمة حصلت لمن كفر به۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس کو کون سی رحمت ملی جس نے فالجواب ما رواه ابوجعفر بن جرير آپ کا انکار کیا۔ تو اس کا جواب وہ ہے جو ابن جرير عن ابن عباس ، قال من آمن بالله نے عبداللہ بن عباس سے روایت کیا ہے۔ انھوں واليوم الآخر كتب له الرحمة نے کہا کہ جو آدمی اللہ اور روز آخرت پر ایمان لایا فى الدنيا والآخرة۔ ومن لم يؤمن اس کے لیے دنیا اور آخرت میں رحمت لکھ دی گئی۔ بالله ورسوله عوفى مما اصاب الامم اور جو آدمی اللہ اور رسول پر ایمان نہیں لایا وہ من الخسف والمقذف دھنسانے اور پتھراؤ کیے جانے کے اس عذاب سے (مختصر تفسیر ابن کثیر ۵۲۵/۲) بچ گیا جو پچھلی امتوں کو پیش آیا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page