Urdu book · عظمتِ اسلام

دنیا کے لیے رحمت

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

وقيل هو رحمة للمومنين في الدارين اور کہا گیا ہے کہ آپ اہل ایمان کے لیے دونوں عالموں وللكافرين في الدنيا بتاخير میں رحمت ہیں۔ اور اہل انکار کے لیے دنیا میں عذاب الاستئصال والمسخ رحمت ، کیونکہ ان پر مہلک عذاب اور مسخ اور والخسف (تفسیر النسفی ۹۱/۳) دھنسائے جانے کا عذاب ٹال دیا گیا۔ فكان رحمة للعالمين حتی الکفار رحموابه آپ منکرین تک کے لیے رحمت تھے۔ آپ کی وجہ سے حيث اخر عقوبتہم ولم يستأصلہم بالعذاب ان کی سزا موخر ہوگئی اور ان پر عذاب متاصل نہیں كالمسخ والخسف والغرق (صفوة التفاسير ۲۴۷/۲) آیا ، مثلاً مسخ ، دھنسانا ، اور غرق کرنا۔ روی البخاری فی التاریخ عن ابی ہریرة ، بخاری نے اپنی تاریخ میں ابو ہریرہ سے روایت کیا قال : انما بعثت رحمة ولم ابعث ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں، عذابا۔ وقال ابن عباس : هو رحمة میں عذاب بنا کر نہیں بھیجا گیا۔ اور عبد اللہ بن عباس للكافرين في الدنيا بتأخير العذاب نے کہا کہ آپ منکرین کے لیے دنیا میں ان پر عذاب عليهم ورفع المسخ والخسف ٹل جانے کی وجہ سے رحمت ہیں اور مسخ اور دھنسنا والاستئصال (التفسیر المظهری ۲۳۴/۶) اور مہلک عذاب اٹھا لیے جانے کی وجہ سے۔ مگر دنیا میں ”رسول رحمت“ کا دور لانا سادہ طور پر محض تقرری (appointment) کا معاملہ نہ تھا۔ یہ ایک نئی تاریخ کو ظہور میں لانے کا معاملہ تھا۔ اس کے لیے ضرورت تھی کہ ایک طاقت ور انسانی ٹیم رسول رحمت کی کامل معاونت کرے اور اسباب وعلل کے تمام تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے مطلوبہ تاریخی انقلاب لے آئے۔ اصحاب رسول اپنے اعلیٰ شعور اور اپنی بے پناہ قربانیوں کے ذریعہ یہی طاقت ور ٹیم بنے۔ انھوں نے رسول رحمت کے خدائی منصوبے کو عملاً قائم کیا۔ قرآن کے مطابق ، موجودہ دنیا انسان کے لیے آزمائش گاہ ہے۔ یہاں انسان کو آزادی دے کر دیکھا جارہا ہے کہ کون اچھا عمل کرتا ہے اور کون برا عمل۔ انسان کے اسی ریکارڈ کے مطابق اس کے ابدی انجام کا فیصلہ کیا جائے گا۔ خدا کے پیغمبر انسان کو اسی نوعیت حیات کی خبر دینے کے لیے آتے تھے۔ جب آخری رسول پر پیغمبروں کی آمد کا سلسلہ ختم کیا گیا تو اس کے بعد اللہ نے چاہا کہ دین پیغمبر کو ذات پیغمبر کا بدل بنا دیا جائے۔ زندہ پیغمبر کے بجائے پیغمبر کا لایا ہوا ہدایت نامہ لوگوں کے لیے ہدایت کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page