Urdu book · عظمتِ اسلام

دنیا کے لیے رحمت

Urdu book, p. 244

By Maulana Wahiduddin Khan

ذریعہ بن جائے ۔ یہ صرف اس وقت ممکن تھا جب کہ خدا کا دین ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ دین بن چکا ہو۔ پچھلے زمانوں میں ایسا ممکن نہ ہوسکا ۔ کیونکہ پیغمبروں کو انسانوں کی اتنی بڑی تعداد نہیں ملی جو دین کی حمایت کرکے عالم اسباب میں اس کی حفاظت کا انتظام کرتی ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر پیغمبر کا دین اس کے بعد مٹایا جاتا رہا۔ آج پچھلے پیغمبروں میں سے کسی بھی پیغمبر کی تاریخ موجود نہیں ، اور نہ کسی پیغمبر کی کتاب محفوظ حالت میں پائی جاتی ہے ۔ اس مقصد کے لیے ضرورت تھی کہ خدا کے دین کو مجرد نظریہ کی سطح سے اٹھا کر اس کو عملی انقلاب کے درجہ تک پہنچا دیا جائے ۔ اس کے لیے ضرورت تھی مخالف دین طاقتوں کا زور توڑ دیا جائے تاکہ وہ ماضی کی طرح اس دین کو مٹانے میں کامیاب نہ ہوسکیں ۔ اس کے لیے ضرورت تھی کہ خدا کے دین کی پشت پر ایک طاقت اور امت کھڑی کردی جائے جو تمام مخالفین کے علی الرغم اس کی محافظ اور امین بن سکے ۔ اس کے لیے ضرورت تھی کہ خدا کے دین کی بنیاد پر ایک مکمل تاریخ وجود میں آ جائے تاکہ خدا کے دین کی پشت پر ایک عملی نمونہ موجود رہے جو ہر دور کے انسانوں کی رہنمائی کرتا رہے ۔ یہ منصوبہ بلا شبہ تاریخ کا مشکل ترین منصوبہ تھا۔ اصحاب رسول نے ہر قسم کی رکاوٹوں اور مشکلوں کے با وجود پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر اس کو مکمل کیا ۔ اس کے لیے انھوں نے اپنا وطن اور اپنے عزیز و اقارب کو چھوڑ دیا۔ قریش آپ کے دشمن ہو گئے ۔ مگر صحابہ نے اپنے جان و مال کو لٹا کر پیغمبر کی مدد کی۔ حنین کی جنگ میں دشمنوں نے آپ پر تیروں کی بارش کر دی ۔ اس وقت صحابہ کی ایک جماعت نے آپ کو چاروں طرف سے اپنے گھیرے میں لے لیا۔ ان کے جسموں پر تیر اس طرح لک رہے تھے جس طرح ساہی کے جسم پر کانٹے لگتے ہیں ۔ مگر انھوں نے پیغمبر کا ساتھ نہیں چھوڑا ۔ روم و ایران کی طاقتور سلطنتیں خدا کے دین کی دشمن ہو گئیں ۔ صحابہ نے ان طاقتور چٹانوں کو توڑ ڈالا ، وغیرہ ۔ صحابہ کرام نے ہر قربانی کی قیمت پر پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دیا۔ انھوں نے اپنے بے پناہ عمل سے وہ تاریخی حالات پیدا کیے جس کے بعد سنت اللہ کے مطابق نبیوں کا سلسلہ ختم ہوا اور انسانیت بار بار دنیوی ہلاکت کے انجام سے بچ گئی ۔ نبوت رحمت کا قیام ایک خدائی منصوبہ تھا، ہمگیر یہ اصحاب رسول ہی تھے جنھوں نے عالم اسباب میں اس منصوبہ کو مکمل کیا ۔ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page