کارساز
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
کارساز ٹائمز آف انڈیا (۳۰ نومبر ۱۹۸۹) کے کالم اوپینین (opinion) میں ایک عنوان نے مجھے اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ اس کے الفاظ تھے ۔۔۔۔۔ میں لاپروا تھا مگر وہ نہ تھے: I was careless; they were r یہ نئی دہلی (فرینڈس کالونی ایسٹ) کے رہنے والے مسٹر کرشن کھنہ کا ایک تجربہ تھا جو مذکورہ سرخی کے ساتھ اخبار میں شائع ہوا۔ اس سرخی کے نیچے جو مختصر مضمون درج تھا، اس کا ترجمہ یہ ہے : " میں کالکا سے دہلی کے لیے بذریعہ ٹرین سفر کر رہا تھا۔ میں نے لاپرواہی میں اپنا پرس ریل کوچ کے اندر گرا دیا ۔ میں نے سمجھا کہ اس کو کسی نے میری جیب سے نکال لیا ہے۔ مجھے کوئی امید نہ تھی کہ میرا پرس دوبارہ مجھے واپس ملے گا۔ اگلی صبح کو ایک ٹیلی فون آیا۔ یہ ناردرن ریلوے کے ڈویژنل مینیجر کے دفتر سے تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ میرا پرس مل گیا ہے اور وہ ان کے پاس موجود ہے ۔ انھوں نے پرس کے اندر رکھی ہوئی ایک شناختی سلپ کے ذریعہ مجھے جانا تھا۔ میں دفتر پہنچا تو میرے پرس کی تمام چیزیں پوری طرح محفوظ تھیں ۔ افسر اور اس کے عملہ نے میرے ساتھ انتہائی خوش اخلاقی کا معاملہ کرتے ہوئے میرا پرس مجھے واپس دے دیا" I was careless enough to drop my wallet in the rail coach I took from Kal- ka to Delhi. I took my pocket had been picked and had no hope of getting it back. The next morning came a telephone call from the office of Nort- hern Railway's divisional manager to say it had been found. They located me by an identity slip in it. All the contents were intact and I was treated with utmost courtesy by the officer and his staff. (Krishen Khanna) میں نے اس خبر کو پڑھا تو مجھے کسی فارسی شاعر کا وہ شعر یاد آ گیا جو اس نے خدا اور بندے کی نسبت سے کہا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا خدا دنیا سے بہتر طور پر ہماری کار سازی کر رہا ہے : کار ساز ما به منکر کار ما منکر ما در کار ما آزار ما حقیقت یہ ہے کہ یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانہ پر اللہ کی طرف سے ہوتا ہے بشرطیکہ کوئی بندہ اللہ کے ساتھ اپنا تعلق قائم کر کے یہ کہہ اٹھے کہ ۔۔۔۔۔ خدایا، انا عند ظن عبدی کے مطابق، میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader