کارساز
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
نے تیرے ساتھ یہ گمان قائم کیا ہے کہ تو میری فکر کرے گا جب کہ میں بے فکر ہو جاؤں۔ تو مجھے یاد رکھے گا جب کہ میں بھول جاؤں۔ تو مجھے سنبھالے گا جب کہ میں پھسلنے لگوں۔ تو میری کارسازی کرے گا جب کہ میں غفلت میں پڑ جاؤں۔ تو میرے لیے جاگے گا جب کہ میں سو جاؤں۔ تو مجھے بخش دے گا جب کہ میں غلطی اور کوتاہی کروں۔ جب کوئی بندہ اس طرح خدا کو اپنا رب بنالے تو خدا بھی اسی طرح اُس کو اپنا بندہ بنالیتا ہے جیسا کہ اس نے اپنے رب کے ساتھ گمان کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں جتنے واقعات پیش آتے ہیں، وہ سب سبق کے لیے پیش آتے ہیں۔ مذکورہ بالا قسم کے واقعات بھی دراصل اسی لیے ہیں کہ انسان ان سے سبق حاصل کرے۔ وہ انسانی واقعہ میں خدائی معاملہ کی جھلک پالے۔ وہ وقتی تجربہ میں اس مستقل اور پائیدار تعلق کا تجربہ کرلے جو بندہ اور خدا کے درمیان قائم ہوتا ہے، جس کو کبھی ٹوٹنا نہیں ہے۔ جس کا سلسلہ دنیا سے آخرت تک چلا جاتا ہے۔ خدا بلا شبہ سب سے بڑا کارساز ہے۔ مگر وہ اسی شخص کا کارساز بنتا ہے جو اس کو اپنا کارساز بنائے۔ جو اس پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دے۔ آپ ایک گارڈن کے سامنے کھڑے ہوئے ہیں۔ اس کی ٹھنڈی ہوائیں آپ کے اندر ارتعاش پیدا کر رہی ہیں۔ اس کے پھولوں کی خوشبو سے آپ کی روح معطر ہو رہی ہے ۔ اس کا سہانا منظر آپ کو ہمہ تن اپنی طرف کھینچ رہا ہے ۔ آپ سرشاری کے عالم میں کہہ اٹھتے ہیں : خدایا ، یہ گارڈن گویا جنت کا ایک بعید نظارہ ہے۔ تو نے جنت مجھ کو دور سے دکھائی، اب تو جنت کو مجھے قریب سے بھی دکھا دے۔ تو نے جنت کا تعارفی مشاہدہ کرایا، اب تو مجھ کو جنت کا حقیقی مشاہدہ بھی کرا دے۔ تو نے مجھے خارج سے جنت کا تجربہ کرایا، اب تو اس کے اندر بھی مجھے داخل کر دے۔ خدا کی دنیا میں جو آدمی اس طرح کی روحانی خوراک حاصل کرے وہ اپنے آپ کو خدا کے عین قریب محسوس کرنے لگتا ہے۔ وہ دیکھے بغیر خدا کو دیکھنے لگتا ہے۔ وہ پائے بغیر خدا کو پالیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader