Urdu book · عظمتِ اسلام

مسلم حج

Urdu book, p. 152

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلم حج قاضی شریک بن عبد اللہ بن الحارث النخعی مشہور عالم اور فقیہ ہیں۔ وہ بخاری میں ۹۵ھ (۸۱۳ء) میں پیدا ہوئے۔ کوفہ میں ۱۷۷ھ (۸۹۳ء) میں ان کی وفات ہوئی۔ خلافت عباسی کے زمانہ میں ۱۵۳ھ میں وہ کوفہ کے قاضی مقرر ہوئے۔ قاضی شریک کا ایک واقعہ یہ ہے کہ ایک عورت ان کے پاس یہ شکایت لے کر آئی کہ کوفہ کے حاکم موسیٰ بن عیسیٰ (خلیفہ مہدی کے چچا) کے ہاتھ جب وہ اپنا باغ فروخت کرنے پر راضی نہیں ہوئی تو انھوں نے اپنے غلاموں کو حکم دیا اور انھوں نے باغ کے حدود اور نشانات مٹا دیے اور اس کو امیر موسیٰ کے باغ میں ملا دیا۔ قاضی شریک نے امیر موسیٰ کے یہاں کہلوایا کہ وہ عدالت میں عورت کے ساتھ حاضر ہوں۔ امیر نے کوفہ کے پولیس افسر کو قاضی کے پاس بھیجا تا کہ وہ ان سے گزارش کریں کہ وہ اس معاملہ میں دخل دینے سے باز رہیں۔ قاضی نے پولیس افسر کو پکڑ کر قید کر دیا۔ جب امیر موسیٰ کو اس کی خبر ہوئی تو انھوں نے بعض درمیانی افراد کو بھیجا۔ انھوں نے قاضی کو ان کے اس فعل پر ملامت کی۔ قاضی شریک نے ان لوگوں سے کہا کہ امیر نے کیوں اپنے آپ کو عدالت کی حاضری سے بالاتر سمجھا۔ کیا عدالت صرف عوام کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہے۔ عدالت بلاشبہ بڑے اور چھوٹے کے درمیان فرق نہیں کرے گی۔ اور تم نے عدالت کے معاملہ میں مداخلت کی ہے۔ ضروری ہے کہ تم کو اس کی سزا دی جائے۔ پھر قاضی نے ان لوگوں کو قید کرنے کا حکم دے دیا۔ اس کے بعد امیر موسیٰ اپنے محافظ سواروں کے ساتھ قید خانہ گئے اور قیدیوں کو بزور اس سے نکال دیا۔ اس کے بعد قاضی شریک سفر کر کے بغداد گئے۔ تا کہ خلیفہ مہدی سے ملیں اور اس سے یہ کہیں کہ وہ ان کو قضاء کے عہدہ سے الگ کر دے۔ انھوں نے خلیفہ سے کہا: خدا کی قسم، میں نے بنو عباس سے قاضی کا عہدہ نہیں مانگا تھا، خود انھیں نے مجھ کو یہ عہدہ قبول کرنے پر مجبور کیا، اور انھوں نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ ہم با اختیار اور آزاد ہوں گے۔ اگر ہم کو قاضی بنایا گیا تو ہم اپنے فیصلے پوری طرح عدل کے مطابق کریں گے۔ مگر اب قاضی کے عہدہ پر باقی رہنے کی کوئی صورت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page