Urdu book · عظمتِ اسلام

مسلم حج

Urdu book, p. 255

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں ہے جب کہ ہم دیانت دارانہ فیصلہ کرنے میں بے بس ہیں۔ پھر امیر موسیٰ نے قاضی سے ملاقات کی اور ان سے مہربانی کی درخواست کی۔ قاضی شریک نے کہا کہ میرے نزدیک اس کا حل صرف یہ ہے کہ وہ تمام لوگ دوبارہ قید خانہ میں لوٹائے جائیں جن کو قید کیے جانے کا میں نے حکم دیا تھا۔ چنانچہ امیر موسیٰ نے مجبور ہو کر تمام لوگوں کو دوبارہ قید خانہ میں واپس کیا۔ اور خود عورت کے ساتھ عدالت میں حاضر ہوئے۔ پھر قاضی شریک نے یہ فیصلہ دیا کہ امیر عورت کے باغ کو اسے لوٹائے اور جو حدود اور نشانات ڈھا دیے گئے تھے ان کو دوبارہ قائم کرے۔ چنانچہ اس حکم کا نفاذ کیا گیا : روی ان القاضی (شريك بن عبید اللہ) قد شكــت اليه امرأة من انها عند ما امتعت عن بيع بستانها للامير موسیٰ بن عیسیٰ عم امير المومنين المهدی ا مر غلمانه فأز الوا حدود بستانها ومعالمه ـ وخلطوه ببستانه ، فارسل يستدعى الامير للحضور فی مجلس القضاء مع المرأة ـ فارسل الامير رئيس الشرطة بالكوفة ليطلب منه العدول عن هذا فحبس رئيس الشرطة ، ولما علم الامير بذلك بعث بعض الوسطاء يعتبون علی القاضی فقال لهم (شريك) لماذا ترفع الامير عن الحضور الی مجلس الحكم؟ هل نصب القضاء للفصل بين العامة فحسب ، ان العدالة لا تفرق بين امير و صغير ، وانتم بتدا خلكم فی امر القضاء لا بد ان يحل بكم جزاء ، ثم امر بحبسهم ـ فذهب الامير فی ركب من حراسه الی السجن واخرج المسجونين عنوة فاعد القاضی نفسه للسفر الى بغداد للقاء الخليفة المهدی ليطلب اعفاءه من القضاء قائلاً : (والله ما طلبت من بني العباس ولاية القضاء ، وانما هم الذين أكرهونا عليها ـ ولقد وعدونا ان نكون اعزة احراراً نتوخى العدل في احكامنا ان تولينا القضاء ـ اما الآن فلا سبيل الى البقاء في مجلس الحكم مادمنا عاجزين عن اداء الأمانة) فلحق به الامير واخذ يستعطفه فقال : الحل عندی ان يرد الی السجن جميع من امرت بسجنهم فاضطر الامير الی اعادتهم الى السجن والى حضور مجلس القضاء مع المرأة، وحكم علیه شريك برد البستان ، واقامة الحدود والمعالم التي هدمت فنقذ الحكم ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page