Urdu book · عظمتِ اسلام

بارش شروع ہوگئی

Urdu book, p. 250

By Maulana Wahiduddin Khan

سلطان پر اس تنقید کا بہت زیادہ اثر تھا مگر وہ مسجد میں کچھ نہ بولا اور نماز کے بعد خاموشی سے اٹھ کر باہر آگیا۔ گھر پہنچ کر سلطان نے اپنے لڑکے الحكم سے کہا کہ آج قاضی منذر نے مجھ کو بہت تکلیف دی ۔ اب میں نے طے کر لیا ہے کہ ان کے پیچھے جمعہ کی نماز کبھی نہیں پڑھوں گا ۔ الحکم نے کہا : قاضی منذر کا امام ہونا یا نہ ہونا آپ کے اختیار میں ہے۔ آپ ان کو معزول کر دیجیے اور ان کی جگہ دوسرا کوئی امام مقرر کر دیجیے جو ایسی گستاخی نہ کرے ۔ یہ سن کر سلطان غصہ میں آگیا ۔ اس نے اپنے لڑکے کو ڈانٹ کر کہا: تمھار ابراہو، ایک شخص جو ہدایت سے دور ہے اور راستہ سے بھٹکا ہوا ہے کیا اس کی خوشی کی خاطر قاضی منذر جیسے خوبیوں والے آدمی کو معزول کر دیا جائے گا۔ یہ بات کبھی نہیں ہو سکتی (هذا امالايكون) مجھے ان کی باتوں سے چوٹ لگی اس لئے میں نے ان کے پیچھے جمعہ نہ پڑھنے کی قسم کھالی ۔ میری خواہش ہے کہ اس قسم کے کفارہ کی کوئی صورت نکل آئے ۔ تاہم قاضی منذر ہماری زندگی میں اور اپنی زندگی میں لوگوں کو نماز پڑھاتے رہیں گے (بل يصلى بالناس حياتنا وحياته انشاء الله تعالى) چنانچہ قاضی منذر بدستور جمعہ کی نماز پڑھاتے رہے۔ عبد الرحمن الناصر کے انتقال کے بعد اس کے لڑکے نے بھی ان کے مقام کو اسی طرح باقی رکھا۔ سلطان عبد الرحمن الناصر کے زمانہ میں ایک بار قحط پڑا۔ بہت سخت حالات پیدا ہو گئے ۔ سلطان نے اپنا ایک خاص آدمی قاضی منذر بن سعید کے پاس بھیجا اور درخواست کی کہ آپ استسقار کی نماز پڑھائیں اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے بارش برسائے۔ قاضی منذر نے سلطان کے قاصد سے پوچھا کہ سلطان نے میرے پاس دعا کا پیغام بھیجا ہے مگر وہ خود کیا کر رہے ہیں۔ قاصد نے کہا: آج سے زیادہ ہم نے کبھی ان کو اللہ سے ڈرنے والا نہیں پایا ۔ ان کا حال یہ ہے کہ وہ حیران و پریشان ہیں۔ تنہائی میں پڑے ہوئے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ نہ مٹی کے فرش پر نماز پڑھ رہے تھے ۔ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے ۔ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کر رہے تھے اور اللہ سے کہہ رہے تھے : خدایا میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے کیا تو میرے گناہوں کی وجہ سے لوگوں کو عذاب دے گا حالاں کہ تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے (هذه ناصیتى بيدك ، اتراث تعذبی الرعیة وانت ارحم الراحمین) یہ سن کر قاضی منذر کے چہرے پر اطمینان ظاہر ہو گیا۔ انھوں نے قاصد سے کہا : اپنے ساتھ بارش لے کر واپس جاو ۔ اب ضرور بارش ہو گی ۔ کیوں کہ زمین کا حاکم جب تضرع کرتا ہے تو آسمان کا حاکم ضرور رحم فرماتا ہے ( اذا خشع جبار الارض فقد رحم جبار السماء) چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ قاصد واپس ہو کر گھر پہنچا تھا کہ بارش شروع ہو گئی ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page