بارش شروع ہوگئی
Urdu book, p. 259
By Maulana Wahiduddin Khan
بارش شروع ہوگئی چوتھی صدی ہجری کا واقعہ ہے ۔ اندلس میں سلطان عبد الرحمن الناصر کی حکومت تھی ۔ اس کا دار السلطنت قرطبہ تھا۔ قاضی منذر بن سعید اس وقت قرطبہ کے قاضی تھے اور اسی کے ساتھ وہ قرطبہ کی جامع مسجد میں نماز کی امامت کی خدمت بھی انجام دے رہے تھے۔ وہ بہت اچھے خطیب تھے اور اسی کے ساتھ بہت بڑے عالم بھی۔ سلطان عبد الرحمن الناصر کو عمارتوں کا بہت شوق تھا۔ اس نے الزہرار کے نام سے ایک شاہی بستی بسائی اور اس میں شان دار محل تعمیر کئے ۔ ان تعمیرات کے آخری دنوں میں سلطان اتنا مشغول رہا کہ مسلسل تین جمعہ میں وہ مسجد نہ پہنچ سکا۔ چوتھے جمعہ کو جب وہ جامع مسجد آیا تو اس کی موجودگی میں قاضی منذر نے جو خطبہ دیا اس میں نام لئے بغیر سلطان پر سخت تنقید کی ۔ قاضی منذر نے ایسی آیتیں پڑھیں جن میں دنیا میں عمارتیں کھڑی کرنے اور آخرت سے غافل ہو جانے پر ردِ عیدیں تھیں۔ مثلاً : کیا تم ہر بلندی پر عبث یادگاریں تعمیر کرتے ہو اور شان دار محل بناتے ہو گویا کہ تم کو ہمیشہ اسی دنیا میں رہنا ہے۔ اور جب تم کسی پر حملہ کرتے ہو تو جبارانہ حملہ کرتے ہو۔ پس اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو (شعار) تمھارا کیا خیال ہے کہ بہتر انسان وہ ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضا کی طلب پر رکھی ہو یا وہ جس نے اپنی عمارت ایک وادی کی کھوکھلی بے ثبات لکیر پر اٹھائی اور وہ اس کو لے کر جہنم کی آگ میں جاگری۔ ایسے ظالم لوگوں کو اللہ کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔ یہ عمارت جو انھوں نے بنائی ہے، ہمیشہ ان کے دلوں میں بے یقینی کی جڑ بنی رہے گی یہاں تک کہ ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔ اور اللہ علیم و حکیم ہے (توبہ) اسی طرح قاضی منذر نے اس مضمون کی بہت سی حدیثیں سنائیں اور ان کی تشریح کی۔ اپنے خطبہ میں اگرچہ انھوں نے سلطان کا نام نہیں لیا مگر مسجد کا ہر نمازی سمجھ رہا تھا کہ ان سخت تنقیدوں کا مخاطب کون ہے اور وہ کس کے اوپر پڑ رہی ہیں ۔ تنقید یوں بھی آدمی کے اوپر بہت سخت ہوتی ہے اور جب مجمع عام میں کسی پر تنقید کی جائے تو وہ اور بھی زیادہ ناگواری کا باعث ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ یہ تنقید ایک ماتحت کی زبان سے اپنے حاکم کے اوپر تھی۔ اور جب کوئی حاکم اپنے ماتحت کو تنقید کرتے ہوئے سنتا ہے تو اس پر کبر کا سخت دورہ پڑتا ہے۔ بڑے بڑے شریف اور دین دار لوگ بھی اس وقت قابو سے باہر ہو جاتے ہیں۔ مگر سلطان نے حد درجہ ضبط سے کام لیا۔ اگرچہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader