Urdu book · عظمتِ اسلام

اسلامی حکمران

Urdu book, p. 291

By Maulana Wahiduddin Khan

صلاح الدین کی شاندار کامیابی اور پوری صلیبی تحریک کی سب سے زیادہ تباہ کن شکست ۲ اکتوبر ۱۱۸۷ء کو ظہور میں آئی جب کہ یروشلم، جو کہ مسلمانوں اور عیسائیوں دونوں کے نزدیک مقدس ہے، وہ ۸۸ برس تک مسیحیوں کے قبضے میں رہنے کے بعد دوبارہ سلطان کی فوجوں کے قبضے میں آگیا۔ مسیحیوں نے جب شہر پر قبضہ کیا تھا تو انھوں نے وحشیانہ طور پر اس کے باشندوں کو قتل کیا اور آزادانہ طور پر لوگوں کا خون بہایا۔ اس کے برعکس مسلمانوں کا دوبارہ قبضہ مہذب انسانوں کا قبضہ تھا، صلاح الدین اور اس کی فوجوں نے مفتوح کے ساتھ فیاضانہ برتاؤ کیا۔ رعایا کے ساتھ سلطان صلاح الدین ایوبی کا یہ انصاف محض اتفاقی نہ تھا۔ یہ اس کی اسلامیت کا نتیجہ تھا۔ صلاح الدین صرف ایک بہادر اور حوصلہ مند شہ سوارہی نہ تھا۔ وہ ایک خدا ترس اور عبادت گزار آدمی تھا۔ اس کا ذہن اسلامی تعلیمات کے تحت بنا تھا۔ اسلامی تعلیمات کے اثر سے سلطان صلاح الدین کا یہ حال تھا کہ وہ دنیا سے زیادہ آخرت کو اہمیت دیتا تھا۔ وہ اس بات سے ڈرتا تھا کہ قیامت میں اس سے اس کی رعایا کے بارہ میں پوچھ ہوگی۔ اسلام اس کے لیے اس میں مانع بن گیا تھا کہ اس کے اندر گھمنڈ کا مزاج پیدا ہو۔ اس کے برعکس اس کے اندر زہد اور تواضع کا مزاج تھا۔ انسائیکلو پیڈیا برطانیکا (۱۹۸۷) کے مقالہ نگار نے سلطان صلاح الدین کے زہد و تقویٰ کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے : ---- and on March 4, 1193, he died. While his relatives were already scrambling for pieces of the empire, his friends found that the most powerful and most generous ruler in the Muslim world had not left enough money to pay for his grave. (16/178) اور ۴ مارچ ۱۱۹۳ء کو صلاح الدین کا انتقال ہو گیا۔ جب کہ اس کے رشتہ دار ابھی سلطنت کے ٹکڑوں کے لیے آپس میں کش مکش کر رہے تھے، اس کے دوستوں نے پایا کہ مسلم دنیا کے سب سے زیادہ طاقت ور اور سب سے زیادہ فیاض حکمران نے اپنے پیچھے اتنی رقم بھی نہیں چھوڑی ہے جو اس کی قبر کے اخراجات کو پورا کر سکے۔ اسلام ایک طرف انسان کی صلاحیتوں کو ترقی دیتا ہے۔ اور دوسری طرف اس کو اس سے روکتا ہے کہ وہ اپنی طاقت کے استعمال میں حد سے تجاوز کرنے لگے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page