Urdu book · عظمتِ اسلام

اختلاف کے باوجود

Urdu book, p. 262

By Maulana Wahiduddin Khan

اختلاف کے باوجود اموی خاندان کے ایک نوجوان عبد الرحمن نے ۵۶ ،ء میں اسپین میں بنوامیہ کی سلطنت کی بنیاد رکھی، اس کا دار السلطنت قرطبہ تھا۔ اسی خاندان میں ایک سلطان الحکم گزرا ہے۔ اس نے ۹۶۱ء سے لے کر ۹۷۶ء تک اسپین میں حکومت کی۔ الحکم کو مسلم اسپین کا سب سے بڑا حکمراں کہا جاتا ہے۔ مورخ ابن اثیر نے اس کی بابت یہ الفاظ لکھے ہیں: : كان محبا لا هل العلم، عالما، فقيها فى المذاهب، عالما بالانساب والتواريخ ، جماعا للكتب والعلماء (وہ اہل علم کو دوست رکھتا تھا۔ عالم اور فقیہ تھا۔ انساب اور تاریخ کا ماہر تھا۔ کتابوں اور علماء کو اپنے پاس جمع رکھتا تھا) (کامل فى التاريخ ٨/ ٦٦٦ الحکم کی علم پسندی نے اس کو اہل علم کا بے حد قدرداں بنا دیا تھا۔ وہ اہل علم کو نہایت عزت اور احترام کا درجہ دیتا تھا۔ حتی کہ ایک عالم اگر اس کی ذات پر تنقید کرے یا اس کی مرضی کا لحاظ نہ کرے تب بھی اس کی قدردانی میں کمی نہیں آتی تھی۔ اپنے تمام تر جاہ و جلال کے باوجود وہ اہل علم کے آگے جھک جاتا تھا۔ اس کا ایک واقعہ اس طرح بیان کیا گیا ہے : الحکم کے زمانہ میں ایک عالم تھے جن کا نام ابو ابراہیم تھا۔ ایک روز وہ قرطبہ کی مسجد ابو عثمان میں وعظ بیان کر رہے تھے۔ عین اس وقت سلطان کا ایک قاصد مسجد میں داخل ہوا۔ اس نے کہا کہ اے ابو ابراہیم، امیر المومنین باہر آپ کے انتظار میں ہیں۔ اور آپ کو اسی وقت بلا رہے ہیں۔ ابو ابراہیم نے بے پروائی کے ساتھ اس شخص کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ تم جا کر امیرالمومنین سے کہہ دو کہ ابو ابراہیم اس وقت اللہ کے کام میں مصروف ہے۔ وہ جب تک اس کام سے فارغ نہ ہو جائے، آپ کے پاس نہیں آسکتا۔ الحکم کے قاصد کو یہ جواب سن کر حیرانی ہوئی۔ وہ سلطان کی طرف واپس گیا اور ڈرتے ڈرتے اس کو ابو ابراہیم کا جواب سنایا۔ قاصد کی توقع کے خلاف، الحکم نے اس کا کوئی برا اثر نہیں لیا۔ اور کسی خفگی کے بغیر کہا کہ تم جا کر ابو ابراہیم سے میرا یہ پیغام کہہ دو کہ ان کی اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page