تاریخ کا ایک
Urdu book, p. 244
By Maulana Wahiduddin Khan
کٹہرے میں بند کروایا۔ تیمور اپنے سفروں میں اس کہڑے کو ساتھ ساتھ لے جاتا تھا تا کہ اس کی تضحیر کرے ۔ سلطان بایزید اس رسوائی کو برداشت نہ کر سکا۔ گرفتاری کے صرف آٹھ ماہ بعد اس کا انتقال ہو گیا ۔ خود تیمور بھی اپنی فتح کے ڈھائی سال بعد اس دنیا سے رخصت ہو کر وہیں چلا گیا جہاں اس نے اپنے مفتوح سلطان کو پہونچایا تھا۔ دنیا میں بظاہر ایک فاتح تھا اور دوسرا مفتوح ۔ مگر آخرت نے دونوں کے فرق کو ختم کر دیا۔ آخرت میں دونوں یکساں طور پر خدا کے بندے کی حیثیت سے خدا کی عدالت میں پیش کر دیئے گئے۔ تیمور اور بایزید دونوں نہایت بہادر تھے۔ تیمور کی ہیبت مشرقی دنیا پر چھائی ہوئی تھی اور بایزید کی ہیبت مغربی دنیا پر جس نے اسلام کے حدود دریائے ڈینوب (ہنگری) تک پہونچا دیئے تھے ۔ اگر ایسا ہوتا کہ تیمور اپنے عمل کا میدان مشرق کو بناتا اور بایزید مغرب کی سمت میں آگے بڑھتا تو وہ دونوں پورے عالم کو اسلام کے سایہ میں لانے کے لیے کافی ہو جاتے ۔ مگر آپس کی لڑائی نے اس امکان کو واقعہ بننے نہیں دیا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے مقالہ نگار نے تیمور کے تذکرے کے ذیل میں لکھا ہے : By defeating the Ottoman Sultan Bayezid at Angora (modern Ankara) in 1402 and thus preventing him from extending his domain into Europe, the fall of Constantinople and the death agony of Byzantium were delayed half a century by this Muslim nomad (18/242). یعنی تیمور نے عثمانی سلطان بایزید کو انگورہ (موجودہ انقرہ) کے مقام پر ۱۴۰۲ میں شکست دی۔ اس طرح اس نے بایزید کو یورپ میں اپنا اقتدار بڑھانے سے روک دیا۔ اس کے نتیجہ میں قسطنطنیہ کی فتح اور باز نطینی سلطنت کا خاتمہ نصف صدی تک کے لیے موخر ہو گیا۔ مسلمان اکثر دوسری قوموں کی شکایت کرتے ہیں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو جتنے بھی نقصان پہونچے ہیں، سب اپنوں کی وجہ سے پہونچے ہیں۔ مسلمانوں کی آپس کی لڑائیاں مسلمانوں کی بربادی کا سب سے بڑا سبب ہیں ، گزرے ہوئے دور میں بھی اور حال کے زمانہ میں بھی ۔ مگر تاریخ کا یہی سب سے بڑا سبق ہے جس سے مسلمانوں نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader