ترک فاتح
Urdu book, p. 269
By Maulana Wahiduddin Khan
ترک فاتح ترکوں نے ۱۴۵۳ء میں قسطنطنیہ فتح کیا جو اب استنبول کہا جاتا ہے۔ یہ مسیحی دنیا کے لیے سب سے زیادہ ہلا دینے والا واقعہ تھا۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ ایک یونانی کتبہ میں اس کے بارے میں یہ الفاظ لکھے گئے کہ اس سے زیادہ نہ ہولناک واقعہ نہ کبھی ہوا اور نہ کبھی ہوگا : There has never been and there never will be a more dreadful happening (p. 336). حضرت عثمان کی خلافت (۶۵۶ ۔ ۴۴ھ ۶۶) کے زمانہ میں مسلمان ترکی میں داخل ہو گئے۔ امیر معاویہ کے زمانہ میں انھوں نے ترک علاقہ میں مزید پیش قدمی کی۔ مگر اس کا دار السلطنت قسطنطنیہ انتہائی محفوظ جغرافیہ اور بے حد مضبوط قلعہ کی بنا پر اتنا مستحکم تھا کہ بار بار کوشش کے باوجود مسلمان اس کو مسخر نہ کر سکے۔ اس کی تسخیر ۸۰ سال بعد صرف ۱۴۵۳ء میں ممکن ہوسکی۔ ترکی کا عثمانی سلطان محمد دوم محمد فاتح کے نام سے مشہور ہے، وہ پہلا شخص ہے جس نے اس طویل مہم کو کامیابی تک پہنچایا۔ اس نے اس مقصد کے لیے نہایت گہر انصوبہ بنایا۔ سلطان محمد ۵۱۴۵۳ میں تخت پر بیٹھا جو اس وقت ادرنہ (Edirne) میں تھا۔ اس نے خاموش اور مسلسل عمل کے ذریعہ تمام ممکن سیاسی اور فوجی تدبیریں اس مقصد کے لیے مہیا کیں۔ ۱۴۵۲ء کا پورا سال اس نے باسفورس کے کنارے ایک نیا قلعہ تعمیر کر نے میں صرف کیا۔ جہاں سے جنگی کارروائیوں کو منظم کیا جاسکے۔ یہ قلعہ بعد کو قلعہ رومیل (Rameli Hisari) کے نام سے مشہور ہوا۔ اس نے ۳۱ جنگی جہازوں کا ایک طاقتور بیڑا تیار کروایا تا کہ سمندر کے راستہ سے موثر حملہ کیا جاسکے۔ اس نے ہنگری کے ایک استاد اربان (Urban) کو بلا کر اتنی بڑی توپ تیار کرائی جو اس وقت کے یورپ میں ایک نادر چیز تھی۔ یہ توپ سازی بے حداہم تھی، کیونکہ اسی کے ذریعہ قسطنطنیہ کی مضبوط سنگین فصیل توڑی جاسکی۔ اس قسم کی مختلف ضروری تیاریوں کے علاوہ اس نے مزید یہ کیا کہ بوقت جنگ یونان اور ہنگری کو غیر جانب دار رکھنے کے لیے ان سے امن معاہدے کیے جن کی شرائط یک طرفہ طور پر ان کے مفاد میں تھیں :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader