Urdu book · عظمتِ اسلام

عجز کی قیمت

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان اور خدا کے درمیان گھمنڈ کی سطح پر رشتہ قائم نہیں ہوتا۔ انسان اور خدا کے درمیان صرف عجز کی سطح پر رشتہ قائم ہوتا ہے۔ عجز انسان کو خدا سے قریب کرنے والا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا (۲۱ جولائی ۱۹۸۵) نے لتا منگیشکر کا ایک انٹرویو شائع کیا ہے۔ یہ انٹرویو نیو یارک میں لیا گیا تھا۔ لتا منگیشکر ہندوستان کی مشہور ترین خاتون سنگر ہیں۔ انٹرویو رنے ان سے کہا کہ آپ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آپ کی مقبولیت نے آپ کو مغرور بنا دیا ہے ۔ خاتون سنگر نے اس کا جو جواب دیا وہ اخبار کے الفاظ میں یہ تھا : Surely, I'm no tyrant. I cannot afford to be nasty or arrogant. The day that happens - and I assure you it never will - there would be no sweetness in my music. یقینی طور پر میں مغرور نہیں ہوں ۔ میں بد طینت اور مغرور ہونے کا تحمل نہیں کر سکتی۔ جس دن ایسا ہوگا، اور میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا ، اس دن میرے گانے میں کوئی مٹھاس باقی نہیں رہے گی ۔ یہ اگرچہ ایک سنگر کی بات ہے مگر سنگر نے اس میں ایک بڑی اہم حقیقت بیان کر دی ہے۔ یہ حقیقت ایک داعی کے لیے بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی ایک سنگر کے لیے ۔ انسان کا اصل حسن تواضع ہے نہ کہ گھمنڈ ۔ گھمنڈ کرنے والے آدمی کی صورت بگڑ جاتی ہے۔ مگر جو شخص تواضع اختیار کرے اس کے اندر اپنے آپ ایک حسن پیدا ہو جاتا ہے۔ متکبر کی آواز کڑوی آواز ہوتی ہے اور متواضع انسان کی آواز میٹھی آواز ۔ خدا کا داعی خدا کے گیت گانے والا ہوتا ہے ۔ وہ انسانی زبان میں ابدی حقیقت کے نغمے بکھیرتا ہے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس کا سینہ تواضع اور رمزتا سے بھرا ہوا ہو۔ اس نے اپنے آپ کو انا کے جذبہ سے خالی کر رکھا ہو۔ جس شخص میں یہ بات ہوگی اسی کی زبان سے وہ میٹھے بول نکلیں گے جو لوگوں کو تڑپا ئیں ۔ وہی وہ گیت چھیڑ سکے گا جو روحوں میں وجد پیدا کر دیں۔ سچائی کی عظمت کو وہی شخص بیان کر سکتا ہے جس کا دل ذاتی عظمت سے اس طرح خالی ہو جائے کہ وہ ذاتی عظمت کے احساس کا تحمل نہ کر سکے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page