آخرت کا مسئلہ
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
آخرت کا مسئلہ خدا نے انسان کو ابدی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا۔ پھر اس کے عرصۂ حیات (Life span) کے تقریباً سو سال کو موجودہ دنیا میں رکھ کر بقیہ ساری عمر کو موت کے بعد آنے والی اگلی دنیا میں ڈال دیا۔ اب بہترین عقل مندی یہ ہے کہ انسان اس آنے والی دائمی زندگی کو سامنے رکھ کر زندگی گزارے۔ اس کی زندگی آخرت رخی (Akhirat oriented) زندگی ہو ۔ ایک مغربی مفکر نے لکھا ہے : " ہمارے لیے یہ ایک غور طلب سوال ہے کہ کیا خالق کائنات اور ہمارے درمیان کوئی ذاتی رشتہ ہے ۔ کیا موجودہ دنیا کے علاوہ کوئی اور دنیا ہے جس میں ہم اپنے اعمال کے مطابق بدلہ پائیں گے یہ نہ صرف فلسفہ کا بہت بڑا سوال ہے، یہ خود ہمارے لیے سب سے زیادہ عملی سوال ہے، ایک ایسا سوال جس سے ہمارے مفادات بہت زیادہ وابستہ ہیں۔ موجودہ زندگی بہت مختصر ہے۔ اس کی خوشیاں نہایت معمولی ہیں۔ جب ہم وہ کچھ حاصل کر لیتے ہیں جو ہم چاہتے ہیں تو ہمارے مرنے کا وقت قریب آچکا ہوتا ہے ۔ اگر یہ واضح ہو سکے کہ ایک خاص طریقہ پر زندگی گزارنے سے دائمی خوشی حاصل ہو سکتی ہے تو بیوقوف یا پاگل کے علاوہ کوئی بھی شخص نہیں ہوگا جو اس طرح زندگی گزارنے سے انکار کرے " آخرت کا مسئلہ کس قدر اہم ہے، مگر انسان کتنی آسانی کے ساتھ اس کو نظر انداز کر دیتا ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader