Urdu book · عظمتِ اسلام

ترک فاتح

Urdu book, p. 179

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ عین وہی تدبیر تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدہ حدیبیہ کے وقت اختیار فرمائی، اور جس کے ذریعہ آپ نے مکہ کے قریش کو خیبر کے یہودیوں سے کاٹ دیا تھا۔ اس معاہدہ کے تحت قریش اس کے پابند ہوگئے تھے کہ بوقتِ جنگ وہ یہود کی مدد نہیں کریں گے۔ ان تمام تیاریوں کے بعد سلطان محمد خاموش نہیں بیٹھا۔ بلکہ اس نے جنگی کارروائی کی کمان براہ راست اپنے ہاتھ میں لے لی۔ پوری مہم کے دوران وہ بذاتِ خود اس میں شریک رہا۔ قسطنطنیہ کی مہم کی تیاری اور اس کی کارروائیوں کی تفصیل بہت لمبی ہے۔ اس کو تاریخ کی کتابوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس زبردست منصوبہ بندی کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۱۴۵۳ء میں قسطنطنیہ فتح ہوگیا۔ بازطینی شہنشاہیت کا آخری تاجدار قسطنطنین (Constantine XI) جنگ کرتا ہوا شہر کے دروازے پر مارا گیا۔ ترکی میں مسلمانوں کی فتح تکمیل کو پہنچ گئی۔ اس فتح کے بعد ترکی کی راجدھانی ادرنہ (ایڈریا نوبل) کے بجائے قسطنطنیہ قرار پائی اور آج تک وہ وہیں قائم ہے۔ اب اس کا نام استنبول ہے۔ قسطنطنیہ گیارہ سو سال سے زیادہ مدت تک مسیحی سلطنت کی راجدھانی تھا۔ اس کے بعد وہ مسلم سلطنت کی راجدھانی بنا۔ تقریباً پانچ سو سال تک وہ عظیم عثمانی خلافت کی راجدھانی اور پورے عالمِ اسلام کی سیاسی طاقت کا مرکز رہا ہے۔ اس کی یہ حیثیت پہلی بار صرف جنگِ عظیم اول (۱۸- ۱۹۱۴) میں ختم ہوئی۔ فتح مکہ (۶۳۰ء) سے لے کر فتح قسطنطنیہ (۱۴۵۳ء) تک اسلامی تاریخ کے تمام بڑے بڑے فاتحانہ واقعات گہری حکمت اور عظیم منصوبہ بندی کے ذریعہ انجام پائے ہیں۔ یہ صرف موجودہ زمانہ کی بات ہے کہ مسلمان تدبیر اور منصوبہ بندی کے بغیر محض جوش وخروش کے ذریعہ کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں، یہی واحد وجہ ہے جس کی بنا پر بالا کوٹ مارچ (۱۸۳۱) سے لے کر اجودھیا مارچ (۱۹۸۹) تک ان کے تمام اقدامات صرف ناکامی پر ختم ہو رہے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ مومن کی فراست سے بچو۔ کیوں کہ وہ خدا کے نور سے دیکھتا ہے مومن کا ایمان اس کو زیادہ بہتر تدبیر کے قابل بنا دیتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page