Urdu book · عظمتِ اسلام

کائنات کا نظام

Urdu book, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

کائنات کا نظام کائنات پورے معنی میں ایک با معنی کائنات ہے ۔ اس کی ہر کارکردگی اپنے اندر مقصدیت لیے ہوئے ہے ۔ کائنات کو آپ جس رخ سے بھی دیکھیں ، وہ ایک منظم منصوبہ معلوم ہوگی نہ کہ ال ٹپ چیزوں کا کوئی بے ترتیب ڈھیر ۔ مثال کے طور پر درخت کی ہری پتیوں میں ایک مادہ ہوتا ہے جس کا نام علم نباتات کی زبان میں کلوروفل (chlorophyll) ہے۔ قدرتی قانون کے تحت اس ہرے مادہ کے اندر ایک عمل واقع ہوتا ہے جس کو فوٹو سنتھیس (photosynthesis) کہا جاتا ہے ۔ یہ مادہ (کلوروفل) لائٹ انرجی کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ لائٹ انرجی کی مدد سے وہ فضا میں پھیلی ہوئی لاکھوں ٹن کاربن ڈائی آکسائڈ کو اپنے اندر جذب کرتا ہے جو انسان کے لیے مضر ہے۔ اور پھر ایک نہایت پیچیدہ عمل کے ذریعہ اتنی ہی مقدار میں آکسیجن نکال کر باہر فضا میں پھیلا دیتا ہے جو انسان اور دوسرے جانداروں کی زندگی کے لیے انتہائی ضروری ہے ۔ (۳۹۰/۱۵) اسی طرح سورج میں اور بالائی فضا میں حکمت کے بے شمار پہلو ہیں۔ مثلاً سورج ایک بہت بڑا دہکتا ہوا شعلہ ہے ۔ وہ ہر ایک سیکنڈ میں جو حرارت خارج کرتا ہے ، اس حرارت کی مقدار دس لاکھ ایٹم بم سے بھی زیادہ ہے ۔ یہ تمام حرارت اگر براہ راست زمین پر پہنچ جائے تو انسان اور تمام ذی حیات مخلوق مر جائے ۔ مگر زمین کے اوپر اس کے چاروں طرف ہوا (مرکب گیسوں) کا غلاف ایک بے حد اہم کام کرتا ہے ۔ وہ اس بے پناہ حرارت کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے اور اس حرارت کی اتنی ہی مقدار زمین تک پہنچنے دیتا ہے جو زندہ اشیار کی بقار کے لیے ضروری ہو۔ کائنات کے نظام میں اس طرح کی اُن گنت حکمتیں پائی جاتی ہیں ۔ یہ اتھاہ حکمتیں بتاتی ہیں کہ یہ کائنات مختلف چیزوں کا کوئی ال ٹپ ڈھیر نہیں ۔ وہ ایک انتہائی منظم کارخانہ ہے ۔ یہ واقع خالق کے وجود کا ناقابل انکار ثبوت ہے ۔ کسی مجموعہ میں نظم اور معنویت کا پایا جانا یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کا کوئی ناظم ہے ۔ ناظم کے بغیر نظم اور معنویت کا پایا جانا ممکن نہیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page