زندگی کا سوال
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
I have lost a belief in people, in a God who put me in this situation without replying clearly to my questions. I am floating on the waters of life without direction, without a goal, without the knowledge of why and how long. (p. 15) میں نے عوام میں اپنا یقین کھودیا ہے ۔ میں نے خدا میں بھی یقین کھو دیا ہے جس نے مجھے اس حال میں رکھا، بغیر اس کے کہ وہ میرے سوالات کا واضح جواب دے ۔ میں زندگی کے پانی میں کسی سمت کے بغیر بہہ رہی ہوں۔ میری کوئی منزل نہیں ۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ کیوں اور کب تک میرا یہ سفر جاری رہے گا۔ یہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جس نے خدا کو چھوڑ کر غیر خدا کو اپنا مرکز توجہ بنایا، پھر اس کو اس میں تسکین نہ مل سکی۔ یہاں تک پچاس سال بے چینی کی حالت میں رہ کر اس نے اپنی جان دیدی ۔ گریٹا گاربو کا واقعہ ایک انتہائی انداز کا واقعہ ہے ۔ مگر کم و بیش یہی واقعہ ہر ایک کے پیش آرہا ہے ۔ ہر آدمی خدا کو چھوڑے ہوئے ہے۔ ہر آدمی کسی نہ کسی غیر خدا کو حاصل کرنے کے لیے دوڑ رہا ہے ۔ مگر جب وہ اس کو پا لیتا ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کی طلب کا جواب نہ تھا۔ اس نے غلط فہمی میں ایک ایسی چیز کو اپنا مقصود و مطلوب بنا لیا جو حقیقتاً اس کا مقصود و مطلوب نہ تھا ۔ ہر آدمی اس حوصلہ کے ساتھ اپنی زندگی کا سفر شروع کرتا ہے کہ وہ اپنی منزل کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مگر جب منزل آتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ منزل نہ رکھتی بلکہ ایک کھڈ تھا جس میں وہ اپنی تمام آرزوؤں اور تمناؤں کو لیے ہوئے جا گرا۔ خدا کا شعور آدمی کے پورے وجود میں پیوست ہے ، اس لیے ہر آدمی عین اپنے اندرونی تقاضے کے تحت خدا کا طالب رہتا ہے ۔ مگر اکثر انسان دھوکے کی بنا پر کسی غیر خدا کو اپنا معبود بنا لیتے ہیں، وہ سراب کو پانی سمجھ کر اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں ۔ تاہم جو سچا طالب ہے وہ کبھی نا مراد نہیں ہوتا۔ سچا طالب کبھی راستوں میں بھٹکتا نہیں۔ وہ غیر خدا کو خدا سمجھنے کی غلطی نہیں کرتا۔ اس کی سنجیدگی اور اس کی سچی طلب اس بات کی ضامن بن جاتی ہے کہ وہ راستوں کے پیچ وخم میں بھٹکے بغیر اپنے حقیقی خدا تک پہنچ جائے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader