سب سے بڑی بدبختی
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
سب سے بڑی بدبختی الاستاذ خوزی الرفاعی ( حلب ، سوریا ) ایک سفر کے تحت اندلس گئے۔ وہاں انھوں نے غرناطہ میں الحمرا، نامی محل دیکھا جو مسلم دورِ حکومت میں نہایت اہتمام کے ساتھ بنایا گیا تھا۔ اپنے سفر نامہ میں انھوں نے جو باتیں لکھی ہیں ان میں ہے ایک یہ ہے : هناك قصة منقوشة على الجدار - ترولى ان سانخا ميكسيكيا يدعى (آری ایکاسا) جاء وزوجته لزيارة الحمراء. وبينما كان يطوف مستغرقا في دهشته مما يرى من مفاتن، رأى سائلا اعمى يتقدم من زوجته يطلب صدقة فقال لزوجته : اجزلى له العطاء يا امرأة فانه ليس فى الحياة أقسى من ان يكون المرء اعمى في غرناطة ( الدراسات الاسلامية ، اسلام آباد، ۱۴۱۴ھ ، صفحہ (۴۴) وہاں ایک دیوار پر ایک قصہ لکھا ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ میکسیکو کا ایک سیاح جس کا نام آری ایکاسا تھا، وہ اپنی بیوی کے ساتھ الحمرا کو دیکھنے کے لیے یہاں آیا۔ اور جب کہ وہ اس کی کشش سے غیر معمولی متاثر ہو کر اس کو دیکھنے میں محو تھا، اس نے ایک اندھے فقیر کو دیکھا جو اس کی بیوی کے قریب ہو کر اس سے صدقہ مانگ رہا تھا۔ سیاح نے اپنی بیوی سے کہا کہ اسے خاتون، اس کو خوب زیادہ دے دو۔ کیوں کہ دنیا میں اس سے بڑی بد بختی اور کوئی نہیں کہ آدمی غرناطہ میں اندھا ہو۔ سخت تكرارات نظر آتا کہ ایک شخص الحمرا کو دیکھنے مذکورہ سیاح کو یہ بات سب سے زیادہ بد بختی کی بات نظر آئی کہ ایک شخص ہمراہ کے سامنے کھڑا ہو مگر وہ آنکھوں سے محروم ہونے کی بنا پر اس خوب صورت محل کو نہ دیکھ سکے۔ مگر ایک اور بدبختی ہے جو اس قسم کی تمام بدبختیوں سے زیادہ سخت ہے۔ اور یہ بدبختی وہ ہے جو آخرت میں پیش آئے گی ۔ اس بدبختی کا ذکر قرآن کی ایک آیت میں اس طرح کیا گیا ہے : ومَن كانَ فِي هَذهِ اعمىٰ فَهُو في الآخِرَةِ اعمىٰ واضَلَّ سَبِيلاً (الاسراء، ۷۲) اور جو شخص اس دنیا میں اندھا رہا وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا اور وہ بہت دور پڑا ہو گا راستہ سے ۔ آخرت وہ عالم ہے جہاں اللہ رب العالمین اپنے تمام جمال و کمال کے ساتھ ظهور فرمائے گا۔ وہاں آدمی رب کائنات کو اسی طرح دیکھے گا جس طرح وہ موجودہ دنیا میں بدر کے چاند کو دیکھتا ہے۔ ایسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader