Urdu book · عظمتِ اسلام

سب سے بڑی بدبختی

Urdu book, p. 81

By Maulana Wahiduddin Khan

حالت میں وہ شخص کتنا زیادہ بد بخت ہو گا جو اس ہستی کو دیکھنے سے محروم رہے جو ہر قسم کے جمال و کمال کا منبع اور سر چشمہ ہے۔ امام احمد، امام مسلم اور دوسرے محدثین نے روایت کیا ہے : قال ، اذا دخل اهل الجنة الجنّة و اهل النارِ النارَ نادي مناد : يا اهل الجنة إن لكم عند الله موعداً يريد ان ينجزكموه ۔ فيقولون ۔ وماهو ۔ الم يثقل موازيننا، الم يبيض وجوهنا، ويدخلنا الجنة ويجرنا من النار ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب جنت والے جنت میں اور دوزخ والے دوزخ میں داخل ہو چکے ہوں گے تو ایک پکارنے والا پکارے گا کہ اے اہل جنت، تمہارے لیے اللہ کا ایک وعدہ ہے، وہ چاہتا ہے کہ اس کو تمہارے لیے پورا کرے۔ اہل جنت کہیں گے کہ وہ کیا ہے۔ کیا ہمارے پلڑے بھاری نہیں کر دیے قال - فيكشف لهم الحجاب فينظرون اليه - فوالله ما اعطاهم الله شيئاً احب اليهم گئیے۔ کیا ہمارے چہروں کو روشن نہیں کر دیا گیا۔ اور اللہ نے ہم کو جنت میں داخل کر دیا اور ہم کو آگ سے بچالیا۔ اس کے بعد ان کے اوپر سے پردہ کھول دیا جائے گا، پھر وہ اپنے رب من السفر اليه ولا اريد ان (تفسیر ابن کثیر ۲/ ۴۱۴) سے پردہ اٹھا دیا جاتا ہے نا، پروردگارِ عالم کو دیکھنے لگیں گے۔ پس خدا کی قسم، کوئی نعمت جو اللہ نے انھیں دی ہے وہ ان کے لیے اللہ کو دیکھنے سے زیادہ محبوب نہ ہوگی اور نہ اس سے زیادہ ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرنے والی۔ آخرت میں دیدار الٰہی کی نعمت بلاشبہ سب سے بڑی نعمت ہے۔ اللہ کو دیکھنا ایک ایسا اعلیٰ و ارفع تجربہ ہے جس کے مثل کوئی دوسرا تجربہ نہیں۔ کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو آخرت میں اس نعمت کبریٰ سے سرفراز کیے جائیں۔ اور کتنے بدبخت ہیں وہ لوگ جو آخرت میں اس حال میں پہنچیں کہ وہاں انھیں یہ خبر ملے کہ دیدار الٰہی کی نعمت سے بہرہ مند ہونا ان کے لیے مقدر نہیں۔ اس سے بڑی بدبختی اور کیا ہوگی کہ آدمی خالقِ کائنات کو دیکھنے کے لیے اندھا ہو جائے ۔ اہم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page