Urdu book · عظمتِ اسلام

سجدہ فطرت

Urdu book, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

کی حالت میں گر جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال مذکورہ واقعہ ہے۔ مطبوعہ تصویر ٹائمس آف انڈیا (۱۰ جولائی ۱۹۹۱) کے فوٹوگرافر نے دسویں لوک سبھا کی حلف برداری کی تقریب کے موقع پر کھینچی تھی۔ اس دن اسپیکر کی جانب سے نومنتخب ممبران کو حلف دلاکر دسویں لوک سبھا کی باضابطہ تشکیل کی گئی تھی۔ لوک سبھا میں ۵۴۰ منتخب شدہ ممبر ہیں۔ ان میں سے آدھے ممبران نئے ہیں۔ انھیں میں سے ایک مسٹر سباش چندر نائیک ہیں۔ وہ جب نئی دہلی کے پرنظمت پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پہنچے اور اس میں داخل ہونے لگے تو وہ واقعہ گزرامں کو اخباری رپورٹر کے کیمرہ نے ریکارڈ کر لیا۔ پارلیمنٹ کے عظمت و تقدس کا احساس ان پر اس طرح طاری ہوا کہ وہ اس کے آگے سجدہ میں گرپڑے ۔ " سجدہ " انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ انسان کا پورا وجود اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ کسی کے آگے سجدہ میں گر جانا چاہتا ہے۔ آدمی کے اندر فطری طور پر یہ احساس چھپا ہوا موجود ہے کہ " تو بڑا ہے، میں چھوٹا ہوں " یہ اندرونی احساس جب شدت اختیار کرکے ظاہری ہیئت میں ڈھل جائے تو اسی کا نام سجدہ ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ میں نے جن اور انسان کو صرف اپنی عبادت کے لئے بنایا ہے (الذاریات ۵۶) اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر عبادت اور سجدہ گزاری کا جو جذبہ چھپا ہوا ہے وہ اصلا خالق کے لئے ہے۔ اس کا صحیح استعمال یہ ہے کہ آدمی خدا اور رب العالمین کا ساجد بن جائے مگر جو لوگ خدا کو پائے ہوئے نہ ہوں وہ اپنی بے خبری کی بنا پر کسی غیر خدا کے سجدہ گزنہ آر بن جاتے ہیں۔ اس واقعہ سے مزید یہ بات معلوم ہوئی کہ توحید کی دعوت ایک ایسی دعوت ہے جس کا آدھا مرحلہ پہلے ہی طے ہو چکا ہے۔ انسان اپنی پیدائشی فطرت کے تحت پیشگی طور پر اپنے اندر یہ آمادگی لئے ہوئے ہے کہ وہ کسی برتر ہستی کے آگے اپنے آپ کو جھکا دے۔ اب داعیانِ حق کا کام صرف اتنا ہے کہ وہ انسان کو یہ بتادیں کہ تمہاری فطرت جس ہستی کے آگے جھکنا چاہتی تھی وہ ہستی در اصل تمہارا خالق ہے۔ اس معاملے میں فارسی شاعر کا یہ شعر پوری طرح صادق آتا ہے کہ جنگل کے تمام ہرن اپنا سر ہتھیلی پر لئے ہوئے اس انتظار میں ہیں کہ تو آئے اور ان کا شکار کرے : همه آهو ان صحرا سر خود نهاده بر کف به امید آنکه روزی به شکار خواهی آمد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page