Urdu book · عظمتِ اسلام

سجدہ فطرت

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

سجدہ فطرت اس صفحہ کے نیچے ایک تصویر دی جا رہی ہے۔ اس میں ایک آدمی "سجدہ" کی حالت میں نظر آتا ہے۔ مگر یہ مسجد کا یا نماز کا سجدہ نہیں ہے بلکہ فطرت کا سجدہ ہے۔ یہ ہندوستانی پارلیمنٹ کے نئے ممبر سباش چندر نائیک ہیں۔ ۹ جولائی ۱۹۹۱ کو جب وہ پہلی بار پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے تو اس کی سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے ان کے اندر غیر معمولی طور پر احترام کا جذبہ ابھرا۔ وہ بے تابانہ طور پر پارلیمنٹ کے سامنے سجدہ کی مانند گرپڑے ۔ سجدہ کی حالت آخری سپردگی کی حالت ہے۔ انسان کے اندر جب کسی چیز کے لئے تسلیم و سپر دگی کا جذبہ کامل طور پر پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنے آپ کو اس چیز کے آگے ڈال دینا چاہتا ہے، اس وقت اس کا جسمانی وجود جس آخری حالت میں ڈھل جاتا ہے وہی سجدہ ہے۔ سجدہ کی حالت سپردگی کی آخری حالت ہے ، اس کے بعد عملی سپردگی کا اور کوئی درجہ نہیں۔ سجدہ کی حالت میں اپنے آپ کو پہنچا کر انسان اس احساس سے دوچار ہوتا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو آخری حد تک حوالہ کیے جانے والے کے حوالہ کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی انسان کے اندر کامل سپردگی کی خواہش ابھرتی ہے تو وہ فوراً سجدہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page