فطرت کا تقاضا
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
فطرت کا تقاضا موجودہ زمانہ میں جن مغربی محققین نے مذہب کا علمی مطالعہ کیا ، انھوں نے عام طور پر یہ خیال قائم کر لیا کہ مذہب پہلے شرک کی صورت میں پیدا ہوا ، اس کے بعد توحید کا عقیدہ آیا ۔ اس مفروضہ کا سبب تاریخ کے بارہ میں ارتقائی تصور تھا۔ اپنے ارتقائی ذہن کے تحت انھوں نے سوچا کہ مذہب نے ارتقار کے انداز میں سفر کیا ہوگا ۔ پھر اس " ہوگا " کو " ہے " مان کر انھوں نے کہہ دیا کہ مذہب کا سفر ارتقائی انداز میں ہوا ہے۔ کائناتی مظاہر میں تعدد کو دیکھ کر ابتدائی انسان نے سمجھ لیا کہ خدائی میں بھی تعدد ہے۔ پھر جب علم بڑھا تو تعدد نے توحید کی صورت اختیار کر لی۔ مگر بعد کی زیادہ گہری تحقیقات نے اس نظریہ کی غلطی واضح کر دی ۔ انسائیکلو پیڈیا برطانیہ کا (۱۹۸۴) کے مقالہ نگار نے توحید (Monotheism) کے زیر عنوان لکھا ہے کہ یہ فرض کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں کہ مذہب کی تاریخ میں کئی خداؤں کا تصور پہلے آیا اور ایک خدا کا تصور بعد کو پیدا ہوا۔ یہ ثابت کرنے کے لیے کوئی تاریخی مواد موجود نہیں ہے کہ ایک نظام عقائد دوسرے نظام عقائد کے مقابلہ میں زیادہ پرانا ہے ، اگر چہ بہت سے اہل علم یہ مانتے ہیں کہ توحید مذہب کی اعلیٰ صورت ہے اور اس لیے بعد کو ظہور میں آئی ، یہ فرض کرتے ہوئے کہ جو اعلیٰ ہے اسے بعد کو آنا چاہیے : صحیح یہ ہے کہ توحید مذہب کی اصلی صورت ہے اور شرک مذہب کی بگڑی ہوئی صورت ۔ لیکن مغربی علما نے اپنے ارتقائی مفروضہ کے تحت یہ سمجھ لیا کہ شرک مذہب کی ابتدائی صورت ہے، اور توحید اس کی تکمیلی صورت ۔ اس غلط مفروضہ کی بنا پر ان کا پورا نظریہ مذہب غلط ہو گیا ۔ توحید کو اصل اور شرک کو بگڑا سمجھے تو مذہب کی ایک شکل بنتی ہے ، اور اگر توحید کو تکمیل اور شرک کو آغاز سمجھے تو اس سے بالکل مختلف دوسری شکل۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader