فطرت کا تقاضا
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن نیز حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا اور مذہب کا عقیدہ انسان کے لیے کوئی خارجی چیز نہیں ۔ وہ عین فطرت انسانی کی آواز ہے۔ وہ پیدائشی طور پر انسانی فطرت میں اس طرح پیوست ہے کہ انسانی فطرت کو کسی بھی طرح مذہبی عقیدہ سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم قدیم زمانہ میں یہ بات خالص علمی اعتبار سے ثابت شدہ نہیں بنی تھی ۔ کیوں کہ قدیم زمانہ میں تمام انسان کسی نہ کسی طور پر خدا اور مذہب کو مانتے تھے ۔ اس زمانہ میں ایک مذہب اور دوسرے مذہب کے درمیان اختلافات ضرور پیدا ہوئے ۔ مگر پوری قدیم تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی گروہ یہ دعویٰ لے کر اٹھے کہ خدا اور مذہب کا عقیدہ بے بنیاد عقیدہ ہے اور اس کے اس دعویٰ کو انسان کی کوئی جماعت تسلیم کرلے۔ یہ صرف انیسویں صدی عیسوی کی بات ہے کہ دنیا میں ایسے مفکرین اٹھے جو اس بات کے مدعی تھے کہ خدا اور مذہب کا عقیدہ ایک بے بنیاد عقیدہ ہے ۔ وہ انسان کی ضرورت نہیں۔ اور انسان کی فطرت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ دراصل ماحول کا اثر ہے جو کسی کو مذہبی انسان بنا دیتا ہے نہ کہ اندرونی فطرت کا تقاضا۔ اس نظریہ کو اتنی مقبولیت حاصل ہوئی کہ ” آزاد دنیا “ میں اس کو منکری طور پر اور اشتراکی دنیا میں اس کو عملی طور پر اختیار کر لیا گیا۔ جن ملکوں میں اشتراکی نظام قائم ہوا وہاں باقاعدہ سرکاری جبر کے تحت مذہب کا خاتمہ کر دیا گیا۔ مذہبی لٹریچر کی اشاعت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی اور پورا تعلیمی نظام اس طرح بنایا گیا جس میں خدا اور مذہب کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ حتیٰ کہ ایک پورا محکمہ صرف اس مقصد کے لیے قائم کیا گیا کہ وہ تمام ذرائع ابلاغ کو استعمال کرتے ہوئے مذہب کے خلاف پروپیگنڈا کرے ۔ سوویت روس اس معاملہ میں سب سے زیادہ آگے تھا۔ مگرستر برس سے زیادہ مدت تک حکومت کی مشیری مذہب کے خلاف استعمال کرنے کے با وجود وہاں مذہب کا خاتمہ نہ ہو سکا۔ حکومت کی پالیسی اس حد تک بدل چکی ہے کہ جہاں اسلام کی کتاب پڑھنا بھی ممنوع تھا وہاں اب خود سرکاری ذرائع کے تحت اسلام کی تبلیغ ہو رہی ہے ۔ مکہ کے العالم الاسلامی ( ۲۷ دسمبر ۱۹۹۳) کی ایک خبر کے مطابق ، ماسکو ریڈیو ہر روز دو گھنٹہ تک اسلامی پروگرام نشر کرتا ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader