کون کنٹرول کرے
Urdu book, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
برتر خدا کا عقیدہ کس طرح انسان کو کنٹرول کرتا ہے ، اس کا راز ، ایک لفظ میں خدا شناسی ہے۔ انسان جب خدا کی معرفت حاصل کرتا ہے۔ جب خدا کے مقابلے میں اس کو اپنی عبدیت کا ادراک ہوتا ہے تو اس کے بعد اس کے اندر وہ حقیقت پسندی پیدا ہوتی ہے جو اپنے آپ اس کو سنجیدہ بنا دیتی ہے۔ اس کے بعد وہ اس کو اپنی ضرورت سمجھنے لگتا ہے کہ وہ خدا کی عظمت کا اعتراف کرے اور اس کا فرماں بردار بن کر دنیا میں زندگی گزارے۔ زمین و آسمان کو ہر آدمی دیکھتا ہے۔ مگر جب خدا شناس آدمی زمین و آسمان کو دیکھتا ہے تو اس کا مشاہدہ اس کے لیے نصیحت کی عظیم کتاب بن جاتی ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے آپ اپنے کو دور خلا میں لے جائیے اور چشم تصور سے اس زمین کو دیکھیے جس پر آپ رہتے ہیں، اور جس کے اوپر آپ اپنی صبح و شام گزارتے ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ ایک بہت بڑا گولہ جس کی جسامت ۲۵ ہزار میل ہے، وہ انتہائی نظم اور پابندی کے ساتھ بیک وقت دو قسم کی گردش میں مصروف ہے۔ ایک طرف وہ اپنے محور پر لٹو کی طرح گھوم رہا ہے، اور اسی کے ساتھ وہ سورج کے گرد مداری گردش کر رہا ہے۔ پہلی گردش ۲۴ گھنٹہ میں پوری ہوتی ہے اور دوسری گردش ایک سال میں۔ یہ دونوں گردشیں اتنی زیادہ منظم ہیں کہ ہزاروں سال کے بعد بھی ان میں ایک سیکنڈ کا فرق واقع نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص پوری سنجیدگی کے ساتھ اس خلائی واقعہ کا ادراک کرے تو اس کی زندگی میں اچانک زبردست انقلاب آجائے گا، وہ سوچے گا کہ جس زمین کے اوپر انسان کھڑا ہوا ہے وہ زمین آخری حد تک خدا کے اوپر نر بھر ہے، پھر انسان اس زمین کے اوپر کیسے آزاد ہوسکتا ہے۔ جس زمین پر آدمی اپنے بارہ میں غلط نہی میں پڑ کر خدا کا باغی بنتا ہے وہ زمین خود آخری حد تک خدا کی مطیع بنی ہوئی ہے۔ جس زمین پر آدمی اپنے کو محفوظ سمجھتا ہے وہ زمین خود آخری حد تک غیر محفوظ حالت میں ہے۔ جس زمین پر آدمی اپنی خود مختاری کا اعلان کرتا ہے وہ زمین خود سراپا عاجزی اور بے اختیاری کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ جس زمین پر آدمی اپنے لیے یقینی مستقبل کی بات کرتا ہے اس زمین کا حال یہ ہے کہ اس کا مستقبل ایک لمحہ کے لیے بھی یقینی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader