کون کنٹرول کرے
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
کون کنٹرول کرے سر جولین ہکسلے کی ۲۰۰ صفحہ کی ایک کتاب ہے جس کا نام "مذہب بغیر الہام" ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ مذہب (یعنی انسانی طریقہ) الہام خداوندی کی بنیاد پر قائم کرنے کا دور ختم ہو گیا۔ اب انسان خود اپنا مذہب بنا رہا ہے۔ اس مذہب کی بنیاد عقل (ریزن) پر ہے۔ اور اس کا نام ہیومنزم ہے۔ مصنف کے نقطہ نظر کا خلاصہ اس کے ان الفاظ میں ہے کہ ____________ موجودہ زمانہ میں انسان نے بڑی حد تک خارجی فطرت کی طاقتوں کو جاننے، ان کو کنٹرول کرنے اور ان کو استعمال کرنے کی بابت سیکھ لیا ہے۔ اب اس کو خود اپنی فطرت کی طاقتوں کو جاننے اور ان کو کنٹرول کرنے اور ان کو استعمال کرنے کی بابت سیکھنا ہے: Man has learnt in large measure to understand, control and utilize the forces of external nature: he must now learn to understand, control and utilize the forces of his own nature (p. 170). Sir Julian Sorell Huxley (1887-1975) Religion Without Revelation, Pitman Publishing Limited, London, 1979 یہی موجودہ زمانہ کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ملحدین کا عام نظریہ ہے۔ مگر یہ لفظی تنگ بندی کے سوا اور کچھ نہیں حقیقت یہ ہے کہ خارجی مادہ کو کنٹرول کرنا جتنا ممکن تھا، اتنا ہی یہ ناممکن ہے کہ انسان خود اپنی فطرت کو کنٹرول کرے۔ مادہ خود اپنے آپ کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔ اسی طرح انسان بھی خود اپنے آپ کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔ انسان کے لیے مادہ کو کنٹرول کرنا اس لیے ممکن ہوا کہ انسان کو اپنے دماغ کی بنا پر مادہ کے اوپر بالاتری حاصل تھی۔ اسی طرح انسان کو وہ ہستی کنٹرول کر سکتی ہے جس کو انسان کے اوپر بالاتری حاصل ہو۔ کوئی برابر اپنے برابر کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔ انسان کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک برتر خدا کا عقیدہ درکار ہے۔ برتر خدائی عقیدہ کے سوا کوئی چیز نہیں جو انسان کو قابو میں رکھ سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader