Urdu book · عظمتِ اسلام

قرآنی انقلاب

Urdu book, p. 68

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآنی انقلاب جسٹس امیر علی (۱۹۲۸-۱۸۴۹) کی کتابوں میں اسپرٹ آف اسلام (The Spirit of Islam) بہت مشہور ہے۔ وہ پہلی بار ۱۸۹۱ء میں لندن سے شائع ہوئی۔ مصنف نے اس کتاب میں صفحہ ۳۹۵ پر پروفیسر جانسن (Johnson) کا ایک اقتباس نقل کیا ہے، یہ اقتباس قرآن کے بارے میں ہے۔ پروفیسر جانسن لکھتے ہیں : “If it is not poetry, — and it is hard to say whether it be or not, — it is more than poetry. It is not history, nor biography. It is not anthology, like the Sermon on the Mount; nor metaphysical dialectics, like the Buddhist Sutras; nor sublime homiletics like Plato’s conferences of the wise and foolish teachers. It is a prophet’s cry, Semitic to the core, yet of a meaning so universal and so timely that all the voices of the age take it up, willing or unwilling, and it echoes over palaces and deserts, over cities and empires, first kindling its chosen hearts to world-conquest, then gathering itself up into a reconstructive force that all the creative light of Greece and Asia might penetrate the heavy gloom of Christian Europe, when Christianity was but the Queen of Night.” قرآن اگر شاعری نہیں ہے ، اور یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ شاعری ہے یا نہیں ہے ، تب بھی وہ شاعری سے زیادہ ہے۔ وہ تاریخ نہیں ہے اور نہ وہ سوانح عمری ہے۔ وہ انجیل کے پہاڑی کے وعظ کی طرح مجموعۂ امثال نہیں ہے ، وہ مابعد الطبیعاتی مکالمہ نہیں ہے جیسا کہ بدھا کے سوتر میں پایا جاتا ہے۔ وہ موعظت بھی نہیں ہے جیسا کہ افلاطون کے یہاں عاقل اور نادان کی مجلسوں میں پایا جاتا ہے۔ وہ ایک پیغمبر کی پکار ہے ۔ وہ آخری حد تک سامی اور عربی ہے، اس کے باوجود اس میں ایسی معنویت ہے جو انتہائی آفاقی ہے اور وہ اتنا مطابق وقت ہے کہ ہر زمانہ کی آواز میں اس کو ماننے پر مجبور ہیں ، خواہ وہ اس کو چاہیں یا نہ چاہیں ۔ اس کی آواز کی بازگشت محلوں اور صحراؤں میں ، شہروں اور بادشاہنہنوں میں سنائی دیتی ہے ۔ پہلے وہ اپنے منتخب دلوں میں عالمی فتح کی آگ سلگاتا ہے۔ اس کے بعد وہ ایک ایسی تعمیری طاقت بن جاتا ہے جیسے کہ یونان اور ایشیا کی تمام تخلیقی روشنی مسیحی یورپ کی گہری تاریکیوں میں داخل ہو جائے ، اس وقت جب کہ مسیحیت صرف رات کی ملکہ کی حیثیت رکھتی تھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page