Urdu book · عظمتِ اسلام

قرآنی انقلاب

Urdu book, p. 69

By Maulana Wahiduddin Khan

قرون وسطیٰ میں یورپ کا طریقہ ، اساتذہ کی کتابوں کو پڑھنا اور انھیں کی رایوں کو دہرانا تھا۔ اس کے مقابلہ میں عربوں نے تجربہ ومشاہدہ پر مبنی طریق تحقیق کو رواج دیا۔ تحقیقاتِ علمی کے لیے تجرباتی طریقہ کو کچھ لوگ غلط طور پر راجر بیکُن کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طریقہ کے موجد عرب تھے ۔ گسٹاولیبان نے اعتراف کیا ہے کہ یہ دراصل عرب تھے جنھوں نے علمی تحقیقات میں تجربہ کو داخل کیا (تمدن عرب ) ڈریپر نے لکھا ہے کہ " عربوں کی عقلِ بیلم نے یہ بات انھیں سمجھادی تھی کہ سائنس کی ترقی محض تخیل سے نہیں ہوسکتی ۔ اس کا صحیح اور یقینی ذریعہ صحیفہ فطرت کا عینی مطالعہ ہے۔ وہ حکمتِ نظری پر حکمت عملی کو ترجیح دیتے تھے ۔ ان کے علم کی بنیاد تجربہ اور مشاہدہ پر تھی۔ فنِ ہندسہ اور ریاضیات کو وہ استدلال واستنباط کے آلات تصور کرتے تھے ۔ علمِ ہیئت میں انھوں نے غیر معمولی ترقیاں کیں ۔ موسیوتاتاں نے " جنرل ہسٹری آف سائنس" میں لکھا ہے کہ عربوں نے دنیا میں علمی ذوق کونئے سرے سے بیدار کیا۔ وہ رصد گاہ ، جرتقیل اور علم کیمیا کے حیرت انگیز آلات کے موجد تھے ۔ انھوں نے تاریخ میں پہلی بار اسپتال قائم کیا جہاں نہ صرف مریضوں کا علاج ہوتا تھا، بلکہ طبیبوں کی ٹریننگ اور طبی تحقیقات کا کام بھی انجام دیا جاتا تھا۔ عربوں میں یہ علمی ذوق کیسے پیدا ہوا۔ جواب یہ ہے کہ قرآن کے ذریعہ ۔ قرآن میں باربار نہایت طاقت ور انداز میں کائنات کے مطالعہ پر زور دیا گیا ہے ۔ کائناتی مطالعہ پر یہ زور اگرچہ اثبات توحید اور اضافہ ایمان کے مقصد کے تحت دیا گیا تھا ۔ مگر جب کائنات کے مطالعہ کا ذہن پیدا ہوگیا تو قانونِ فطرت کے مطابق وہ ایک حد پر نہیں رہا ۔ وہ مزید آگے بڑھا۔ اس ذہن کے دوسرے فائدے بھی نکلے ۔ ان میں سے ایک فائدہ مذکورہ سائنسی ذوق کا پیدا ہونا تھا۔ صحیح ذہن اور صالح مزاج پیدا کرنے کی مہم چلائی جائے تو ابتدائی طور پر خواہ اس کا مقصد صرف ایک ہو ، مگر جب وہ ظہور میں آتا ہے تو اس سے بے شمار دوسرے فائدے بھی حاصل ہوتے ہیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page