Urdu book · عظمتِ اسلام

علمی استدلال

Urdu book, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

علمی استدلال خدا کے وجود پر استدلال اتنا ہی ممکن ہے جتنا کسی بھی دوسری چیز پر استدلال، یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے ہر دور میں انسانوں کی بہت بڑی اکثریت خدا کے وجود پر یقین کرتی رہی ہے۔ تاریخ کے کسی بھی دور میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ بڑی تعداد میں لوگ خدا کے وجود کے منکر بن جائیں۔ تاہم موجودہ زمانہ میں کچھ لوگوں نے یہ دعویٰ کرنے کی جرأت کی کہ خدا کا عقیدہ ایک بے بنیاد عقیدہ ہے، کیوں کہ اس کے حق میں کوئی علمی اور عقلی دلیل موجود نہیں۔ انیسویں صدی عیسوی میں کسی چیز کو دریافت کرنے کا وہ طریقہ وضع ہوا جس کو سائنسی طریقہ (scientific method) کہا جاتا ہے۔ اس طریقہ میں چیزوں کو قابل مشاہدہ یا قابل تجربہ واقعات کی روشنی میں جانچا جاتا ہے۔ اس طریقہ کے رواج سے انسان کو بہت سی نئی چیزوں کے بارے میں واقفیت ہوئی۔ مثلاً شمسی نظام کا تفصیلی علم، یا زمین کی تہوں کے بارے میں قطعی معلومات ۔ وغیرہ۔ ان مادی دریافتوں کے بعد ایک مستقل فلسفہ بنا جس کو عام طور پر پازٹیوزم (positivism) کہا جاتا ہے۔ اس فلسفہ کے تحت یہ سمجھا جانے لگا کہ کسی حقیقی علم تک پہنچنے کا معیار (criterion) صرف ایک ہے، اور وہ براہ راست تجربہ یا مشاہدہ ہے جو قابل تصدیق (verifiable) ہو ۔ اس نقطہ نظر سے دیکھا گیا تو خدا کے وجود کا عقیدہ اس معیار علم پر پورا اترتا ہوا نظر نہیں آیا۔ کیوں کہ یہ عقیدہ تمام تر بالواسطہ استدلال یا استنباط کی بنیاد پر قائم تھا۔ خدا کا وجود قابل مشاہدہ نہیں تھا۔ اس کے حق میں جو دلیل دی جاتی تھی وہ بس اس قسم کی تھی کہ اس عالم میں چونکہ منصوبہ (ڈزائن) ہے اس لیے ضروری ہے کہ اس کا ایک منصوبہ ساز (ڈزائنر) ہو۔ اس قسم کا استنباطی استدلال جدید علمی معیار کے مطابق غیر معقول (invalid) تھا۔ اس لیے اس کو فرضی توجیہہ (pseudo explanation) کہہ کر رد کر دیا گیا۔ یہ اعلان کر دیا گیا کہ خدا کا عقیدہ صرف ایک بے دلیل عقیدہ ہے۔ اس کو جدید منطقی اصول کے مطابق علمی طور پر ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ علم کی دنیا میں تقریباً سو سال تک یہ فکری بحث جاری رہی۔ مگر اس نقطہ نظر میں فکری وزن صرف اس وقت تک تھا جب تک انسانی علم کی رسائی عالم کبیر (macro-world) تک محدود تھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page