Urdu book · عظمتِ اسلام

علمی استدلال

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

بیسویں صدی کے آغاز میں جب انسانی علم کی رسائی عالم صغیر (micro-world) تک پہنچ گئی تو ساری صورت حال یکسر بدل گئی۔ اب معلوم ہوا کہ براہ راست استدلال کا میدان بہت محدود ہے۔ نئے حقائق جو انسان کے علم میں آرہے تھے وہ اتنے لطیف تھے کہ صرف استنباطی یا بالواسطہ استدلال ہی وہاں قابل عمل نظر آتا تھا۔ مثال کے طور پر جرمن سائنس دان رانٹجن (Whilhelm Conrad Rontgen) نے ۱۸۹۵ میں ایک تجربہ کے دوران پایا کہ اس کے سامنے کے شیشہ پر کچھ اثرات (effects) ظاہر ہو رہے ہیں جب کہ اس کے تجربہ اور اس شیشہ کے درمیان کوئی معلوم رشتہ موجود نہ تھا۔ اس نے کہا کہ یہاں ایک ناقابل مشاہدہ شعاع (invisible radiation) ہے جو ۱۸۶۰۰۰ میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کر رہی ہے ۔ اس کی نامعلوم نوعیت (unknown nature) کی بنا پر رانٹجن نے اس کا نام اکسرے (X-rays) رکھ دیا (1058/ 19) بیسویں صدی میں اس طرح کے کثیر حقائق سامنے آئے جن کا براہ راست مشاہدہ ممکن نہ تھا مگر ان کے بالواسطہ اثرات کی بنا پر ان کے وجود سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا تھا ۔ اس لیے جدید علما مجبور ہوئے کہ براہ راست استدلال کے ساتھ استنباطی استدلال کو بھی ایک معقول استدلاللی معیار کے طور پر تسلیم کریں۔ کیوں کہ اس کے بغیر اکسریز کی تشریح نہیں کی جاسکتی تھی۔ اس کے بغیر ایٹم کے سائنسی ڈھانچہ کو ماننا ممکن نہ تھا۔ اس کے بغیر بلیک ہول یا ڈارک میٹر کے وجود کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا تھا۔ وغیرہ ، وغیرہ ۔ جدید تحقیقات بتا رہی تھیں کہ ماورائے مشاہدہ بہت سی حقیقتیں موجود ہیں۔ پازیٹوزم کے اصول پر ان حقیقتوں کو ثابت نہیں کیا جا سکتا تھا، مگر تجربات کی بنا پر ان حقیقتوں کا انکار بھی ممکن نہ تھا۔ اس بنا پر اہل سائنس کے درمیان یہ تسلیم کر لیا گیا کہ استنباطی استدلال بھی اصولاً اتنا ہی معقول ہے جتنا کہ براہ راست استدلال ۔ معیار استدلال میں اس توسیع کے بعد صورت حال بالکل بدل گئی ۔ اب خدا کے وجود پر استدلال بھی علمی اعتبار سے ایک معقول (valid) استدلال بن گیا ۔ اس تو بیعی منطق کے بعد اصولاً مذہبی استدلال اور سائنسی استدلال میں کوئی فرق باقی نہ رہا۔ جس استنباطی منطق سے سائنس کے جدید نظریات ثابت کیے جا رہے تھے عین اسی استنباطی منطق سے خدا کے وجود کا عقیدہ بھی پوری طرح قابل اثبات ہو گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page