Urdu book · عظمتِ اسلام

ایک تقابل

Urdu book, p. 75

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں اعلان کیا گیا کہ کائنات کا خالق صرف ایک ہے۔ ایک ہی عظیم ہستی ہے جس نے پوری کائنات کو تخلیق کیا ہے اور وہی تنہا اس کو چلا رہا ہے۔ مگر مشرکین نے اس کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ کائنات میں بہت سی مختلف اور متضاد چیزیں ہیں۔ اسی کے ساتھ بظاہر اس میں جدا جدا نظام بھی نظر آتا ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کائنات کے خالق بھی متعدد ہیں اور اس کو چلانے والے بھی متعدد۔ جدید سائنس کے ظہور سے پہلے بظاہر یہ استدلال وزنی معلوم ہوتا تھا۔ مگر جدید سائنسی تحقیقات نے بتایا کہ بظاہر ہر تنوع کے باوجود پوری کائنات ایک ہی قسم کے اجزاء سے ترکیب پاکر بنی ہے، اور وہ ایٹم ہے۔ اسی طرح مزید تحقیق نے بتایا کہ پوری کائنات ایک ہی محکم قانون کے تحت چل رہی ہے۔ اس میں کئی الگ الگ قوانین کی کارفرمائی نہیں۔ اس طرح شرک کا مفروضہ بے بنیاد ثابت ہوگیا اور توحید کا عقیدہ ایک علمی حقیقت کے طور پر ثابت شدہ بن گیا۔ قرآن میں کہا گیا کہ کائنات ابتدائے حالت رتق میں تھی، پھر اس کا فتق کیا گیا (الانبیاء ۳۰) نزول قرآن کے وقت یہ انوکھی بات تھی۔ مزید یہ کہ وہ ایک پر خط پیشین گوئی کی حیثیت رکھتی تھی۔ کیوں کہ اگر وہ علمی مشاہدہ میں صحیح ثابت نہ ہو تو اس کے بعد پورا قرآن مشتبہ ہو جاتا۔ مگر بیسویں صدی کے نصف ثانی میں پہنچ کر خالص سائنسی طور پر ثابت ہو گیا کہ یہ عین مطابق واقعہ بیان تھا۔ آج قرآن کی یہ پیشین گوئی بنگ بینک نظریہ کی حیثیت سے سائنس کا ایک مسئلہ بن چکی ہے۔ قرآن میں اعلان کیا گیا کہ حضرت موسیٰ کے زمانہ میں جو فرعون تھا، سمندر میں غرق ہونے کے بعد اس کا جسم محفوظ کر دیا گیا ہے، تاکہ بعد والوں کے لیے نشانی کا کام دے (یونس ۹۲) جس وقت یہ اعلان کیا گیا اس وقت فرعون کے جسم کے بارہ میں دنیا کو کچھ بھی معلوم نہ تھا۔ یہ تاریخ کے بارہ میں ایک نہایت پر خطر بیان تھا۔ مگر انیسویں صدی عیسوی کے آخر میں حیرت انگیز طور پر فرعونِ موسیٰ کا ممیائی کیا ہوا جسم مصر کے ایک اہرام سے برآمد ہو گیا اور آج وہ قاہرہ کے قومی میوزیم میں مشاہدہ عام کے لیے موجود ہے۔ اس طرح قرآن ہر دور میں اپنی صداقت کو مزید اضافے کے ساتھ مسلم کرتا جا رہا ہے بعد کی علمی اور تاریخی دریافتیں قرآن کی تصدیق کر رہی ہیں، وہ اس کی تردید کرنے والی نہیں بنیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page