ایک تقابل
Urdu book, p. 73
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک تقابل الگزینڈر ٹوسپکو (Aleksandr Tosipko) سوویت روس کے ایک مشہور فلسفی ہیں۔ ان کی عمر ۵۰ سال کے قریب ہے۔ وہ ماسکو کے انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اکونومک اینڈ پولیٹیکل اسٹڈیز میں پروفیسر ہیں۔ نیو یارک کے ہفتہ وار میگزین نیوزویک کے نمائندھنے ان سے ماسکو میں ملاقات کی اور ایک خصوصی انٹرویو لیا جو نیوز ویک کے شمارہ ۲۳ جولائی ۱۹۹۰ میں چھپا ہے۔ ایک سوال و جواب یہ ہے: Q. How did your views of Marxism evolve? What was most important in your personal development? A. When you read 'Das Kapital' it's all crystal clear by the time you reach page three. Only an idiot can really believe in Marxism. نیوزویک کے نمائندہ نے پوچھا کہ مارکسزم کے بارہ میں آپ کے خیالات کا ارتقا کس طرح ہوا۔ آپ کے ذاتی ارتقا میں سب سے زیادہ اہم کیا چیز تھی۔ روسی پروفیسر نے جواب دیا: جب آپ مارکس کی کتاب داس کیپٹل کو پڑھیں تو اس کے تیسرے صفحہ تک پہنچتے ہی بات بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ کوئی دیوانہ ہی حقیقتًا مارکسزم کی صداقت پر یقین کر سکتا ہے۔ سرمایہ دارانہ اقتصادیات کے بارہ میں مارکس نے اپنی کتاب داس کیپٹل جرمن زبان میں لکھی تھی۔ وہ پہلی بار ۱۸۶۷ء میں چھپی۔ آئن سٹائ کی حضرات کا کہنا تھا کہ یہ دورِ جدید کا قرآن ہے ۔ اب انسان کو بائبل یا قرآن کی ضرورت نہیں ، اب داس کیپٹل انسان کے لیے رہنما کتاب ہے۔ مگر صرف ایک صدی کے اندر اس کا طلسم ٹوٹ گیا۔ حتی کہ اب خود اشتراکی دنیا میں اس کتاب کو دیوانگی کی کتاب کہا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس قرآن اپنی اہمیت کو چودہ سو سال سے مسلسل برقرار رکھے ہوئے ہے مستر آن اور صاحب قرآن کے خلاف اب تک اس قسم کی کوئی بات ثابت نہ کی جاسکی ۔ قرآن آج بھی ”کتاب لا ریب “ بنا ہوا ہے۔ یہ قرآن کی ابدی صداقت کا ایک ناقابلِ انکار ثبوت ہے۔ انسانی کتابوں کا حال یہ ہے کہ وہ ”تیسرے صفحہ تک پہنچتے ہی اپنی غلطی کو واضح کر دیتی ہیں۔ اس کے برعکس قرآن اپنے ” آخری صفحہ تک ایک بے خطا کتاب ہے۔ یہ علمی واقعہ اس بات کے ثبوت کے لیے کافی ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے نہ کہ کوئی انسانی کتاب۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader