Urdu book · عظمتِ اسلام

قرآن نے فتح کیا

Urdu book, p. 90

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن نے فتح کیا سر آر تھر کیتھ (Arthur Keith) ایک انگریز محقق ہے۔ وہ ۱۸۶۶ء میں پیدا ہوا، اور ۱۹۵۵ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے انسانی ارتقا کے موضوع پر خصوصی ریسرچ کی ہے۔ ۱۹۴۸ء میں اس کی ایک کتاب شائع ہوئی ۔ اس کا نام تھا ۔ انسانی ارتقا کے بارہ میں ایک نیا نظریہ : A New Theory of Human Evolution آر تھر کیتھ نے اپنی اس کتاب میں مصر کی قدیم تاریخ کا ذکر کیا ہے۔ اس سلسلہ میں اس نے لکھا ہے کہ اسلامی دور میں مصریوں کو مسلمانوں کی تلوار نے فتح نہیں کیا بلکہ اس کو مسلمانوں کے قرآن نے فتح کیا : The Egyptians were conquered not by the sword, but by the Koran. (p.303, ed. 1950) مصر کی تاریخ دنیا کی قدیم ترین تاریخوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں لمبی لمبی مدت تک یونانیوں، ایرانیوں اور رومیوں کا غلبہ رہا ہے: اسلام سے پہلے یہاں مسلسل چار سو سال تک مسیحی شہنشاہ کی حکومت قائم تھی۔ مگر ان حکومتوں کے لمبے غلبہ کے باوجود مصر کے مذہب اور تہذیب میں کوئی بنیادی تبدیلی نہ آسکی۔ ان میں سے ہر ایک کا غلبہ زیادہ تر سیاسی غلبہ تھا جو سیاسی اقتدار کے خاتمہ کے ساتھ ختم ہوگیا۔ لیکن ساتویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کا مصر میں داخلہ سراسر دوسری نوعیت کا تھا، اس نے مصریوں کی ہر چیز کو بدل دیا۔ اس سے پہلے مصریوں کی زبان قبطی تھی ، اب ان کی زبان عربی ہوگئی۔ اس سے پہلے ان میں مشترکانہ تہذیب کا رواج تھا، اب ان میں موحدانہ تہذیب کا رواج ہو گیا۔ اس سے پہلے بت پرستی ان کا مذہب بنا ہوا تھا۔ اب دین اسلام ان کا مذہب بن گیا۔ اسلام نے مصریوں کے پورے فکری ، اعتقادی ، دینی اور تہذیبی ڈھانچہ کو بدل کر کچھ سے کچھ کر دیا۔ اتنی گہری اور اتنی دور رس تبدیلی کبھی تلوار کے ذریعہ نہیں ہوسکتی، اور نہ کبھی ایسی تبدیلی تلوار کے ذریعہ ہوئی۔ یہ تبدیلی دراصل قرآن کے نتیجہ میں تھی مصریوں نے جب عربی سیکھنے کے بعد قرآن کو پڑھا تو اس نے ان کو شدت کیسا تھ متاثر کیا۔ یہاں تک کہ وہ اپنے تمام رواجوں کو چھوڑ کر قرآنی مذہب کے پیرو بن گئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page