قرآن نے فتح کیا
Urdu book, p. 81
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن سے پہلے مصر کے لوگ انسانوں کو غریب اور امیر، چھوٹے اور بڑے، رعایا اور بادشاہ کے خانوں میں بانٹے ہوئے تھے۔ عام آدمی خاص لوگوں کے مقابلہ میں اپنے کو حقیر سمجھتا تھا۔ خاص لوگ عام لوگوں کے مقابلہ میں اپنے کو اونچا فرض کیے ہوئے تھے۔ اس طرح ایک انسان اور دوسرے انسان میں طرح طرح کے فرق و امتیاز قائم ہو گئے تھے۔ قرآن نے انسانی برابری کا اعلان کیا تو مصریوں کی آنکھیں کھل گئیں۔ ان کو معلوم ہوا کہ وہ مفروضوں اور مصنوعی خیالات میں جی رہے تھے۔ انھیں محسوس ہوا کہ وہ اب تک اندھیرے میں پڑے ہوئے تھے اور اب خدا کی کتاب انھیں روشنی کا تعارف کرا رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنے آبائی مذہب کو چھوڑ کر جوق در جوق اسلام میں داخل ہوگئے۔ قرآن سے پہلے مصر کے لوگ خدا کے بارہ میں تو ہم پرستانہ عقیدوں میں مبتلا تھے۔ مثلاً وہ دریائے نیل کو ایک خدائی مظہر سمجھتے تھے اور ہر سال اپنی ایک لڑکی کو عمدہ کپڑے پہنا کر اس کی موجوں میں بھینٹ کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ نیل دیوی اس طرح ان سے خوش رہے گی اور ان کے کھیتوں اور باغوں کو سیراب کرنے کے لیے اپنا پانی بھیجتی رہے گی۔ قرآن نے خالص توحید کا اعلان کیا۔ قرآن نے بتایا کہ خدا ایک ہے۔ ساری کائنات اور تمام دریا اور پہاڑ اسی کی مخلوق ہیں۔ سارا اختیار صرف ایک خدا کو حاصل ہے۔ آدمی کو اسی سے ڈرنا چاہیے اور اسی سے اپنی حاجتوں کو مانگنا چاہیے۔ قرآن کی یہ بات مصریوں کے دل کی بات بن گئی۔ ان کی فطرت ایک خالق کا تقاضا کر رہی تھی، مگر تو ہماتی خداؤں میں ان کی روح کو سچی تسکین نہیں ملتی تھی۔ یہ عقیدے انھیں اپنی فطرت کے مطابق نظر نہیں آتے تھے۔ وہ رواجی طور پر ان کو پوجتے تھے مگر ان کا دل ان کی صداقت پر پوری طرح مطمئن نہیں ہوتا تھا۔ قرآن نے جب خدا کا بے آمیز تصور پیش کیا تو وہ انھیں اپنے دل کی آواز معلوم ہوا۔ وہ اس میں اپنی روح کی تسکین پانے لگے۔ انھیں محسوس ہوا کہ یہی وہ حقیقت ہے جس کی تلاش ان کی فطرت میں چھپی ہوئی تھی۔ انھوں نے دوڑ کر قرآن کے دین کو اختیار کر لیا۔ یہی معاملہ ساری دنیا میں پیش آتا رہا۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کی تعداد ایک ملین تک پہنچ گئی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader